یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی نہ بنتی ہے اگر کشمیر کا ایشو نہ ہوتا، سعید غنی
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ تاریخ میں بہت بڑے بڑے آپ کو واقعات مل جائیں گے لیکن حالیہ دنوں میں تو شاید فلسطین اور کشمیر کے علاوہ اتنے طویل عرصے تک کسی ظلم کا شکار رہنے والے مظلومین کی تعداد کم ملے گی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی نہ بنتی ہے اگر کشمیر کا ایشو نہ ہوتا، پیپلز پارٹی کے قیام کی بنیاد مسئلہ کشمیر ہے، کشمیر شاید اس ملک کا ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر پاکستانی قوم یکجا ہے، اس پر کسی کو کوئی کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی زندگی میں جہاں جہاں ان کو موقع ملا بہت ساری باتیں کہیں لیکن دو باتیں ان کی ہمیشہ ان کے یادگار جملے ہیں ایک تو انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر کی آزادی کے لیے ہزار سال تک لڑیں گے اور دوسرا انہوں نے کہا کہ میں انسان ہوں اور انسانوں سے غلطیاں ہو جاتی ہیں لیکن کشمیر کے مسئلے پر میں خواب میں بھی غلطی نہیں کرسکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے تحت آرٹس کونسل آف پاکستان میں منعقدہ شہید برھان مظفر وانی کی نویں برسی کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے بحثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سعید غنی نے کہا کہ جب سے پاکستان قائم ہوا ہے 78 برس ہونے کو آئے ہیں، یہ ایک بہت بڑا وقت ہوتا ہے اس پورے عرصے میں جتنے مظالم کشمیریوں نے سہے ہیں، اگر ان کا موازنہ کریں تو اسے میں تاریخ میں بہت بڑے بڑے آپ کو واقعات مل جائیں گے لیکن حالیہ دنوں میں تو شاید فلسطین اور کشمیر کے علاوہ اتنے طویل عرصے تک کسی ظلم کا شکار رہنے والے مظلومین کی تعداد کم ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پچھلے برس بھی برہان مظفر وانی شہید کی یاد میں یہاں پر ایک ریلی نکالی گئی تھی اس نے شرکت کی تھی اور کل بھی انشا اللہ تعالی جس ریلی کا اہتمام کیا گیا ہے پاکستان پیپلز پارٹی اس نے تمام جماعتوں کے ساتھ بھرپور شرکت کرے گی، ہم نے اپنے کارکنان سے یہ گزارش بھی کی ہے کہ کل جب ہم اس میں شریک ہوں تو پیپلز پارٹی کے کارکن ہو کر شریک نہ ہوں ان کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایک پاکستانی کے طور پر شریک ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔