نوازشریف کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی باتیں قیاس آرائیاں ہیں،اسحق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک )نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی باتیں قیاس آرائیاں ہیں۔لاہور میں داتا دربار پر میڈیا سے گفتگو کے دوران اسحاق ڈار سے صحافی نے سوال کیا کہ کیا نواز شریف اڈیالا جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلیے جا رہے ہیں؟ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ صرف قیاس آرائیاں ہیں، یہ ملاقات کسی کی خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن ہمیں کسی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، خود اسپانسرڈ قسم کی خبریں پھیلائی جاتی ہیں، ہم تمام سیاسی جماعتوں سے مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں چاہے وہ حکومت کا حصہ ہوں یا اپوزیشن کا، ہمارا ایجنڈا تو معاشی ترقی کا ہے، مہنگائی میں بے پناہ کمی آئی ہے، حکومت عوامی فلاح کے منصوبے بنا رہی ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہماری اہم اتحادی ہے، پیپلز پارٹی مشکل وقت کی ساتھی ہے، اچھے وقت میں چھوڑیں گے نہیں، پیپلز پارٹی ہماری اتحادی ہے اور رہے گی، اس کی سپورٹ کے بغیر حکومت بنانا ممکن نہیں تھا، پیپلز پارٹی نے وزارتیں لینے کی کوئی بات نہیں کی۔اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ جب پاکستان پر حملہ ہوا تو اپوزیشن سمیت تمام جماعتوں کو انگیج کیا، اس کے نتیجے میں دنیا نے پاکستانیوں کی متحد آواز سنی، پاکستان پر حملے کے وقت حکومتی جماعت اور اپوزیشن جماعت کا فرق نہیں تھا، یہ ایک مثالی تجربہ ہوا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ قانون اور آئین کو ہم ایک طرف رکھ دیں، کسی ایک صوبے میں نہیں جہاں بھی کرپشن ہو اس کو ختم کرنے کے لیے قانون کو حرکت میں آنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی اسحاق ڈار کہا کہ
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔