نواز شریف کی عمران خان سے ملاقات کی خبریں محض افواہیں ہیں : اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
اسلام آباد:نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مسلم لیگ ( ن ) کے سربراہ اورسابق وزیر اعظم نواز شریف کی بانی پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی خبر کو افواہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسی کی خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن حقیقت نہیں۔
ہفتہ کے روز حضرت داتا گنج بخش کے مزار پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور سلامتی ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا ایجنڈا ملک کی سلامتی کے ساتھ اقتصادی ترقی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دورہ آذربائیجان کے دوران 2 ارب ڈالر کے معاہدے طے پائے ہیں، جو پاکستان کی معیشت کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مہنگائی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور حکومت اسے مزید کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے حضرت داتا گنج بخش کے 982 ویں عرس کے موقع پر مزار کے توسیعی کاموں اور غلام گردش سمیت دیگر امور پر تیزی سے جاری ترقیاتی کاموں کا ذکر کیا اور بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دربار کے لیے مدینہ شریف جیسی چھتریوں کی تنصیب کی منظوری دی ہے۔
خارجہ امور پر بات کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہمسایہ ملک کی جانب سے شروع کی گئی جنگ میں پاکستان نے 9 سے 10 مئی کی رات بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور ہوا و فضا میں بھارت کو بدترین شکست ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اللہ نے پاکستان کو کامیابی عطا کی اور پاکستان عالمی سطح پر سلامتی کونسل کی صدارت کر رہا ہے جو اس کے نایاب مقام کی عکاسی کرتا ہے۔
اسحاق ڈار نے ایران کے ساتھ دوستی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے دیکھا کہ پاکستان اس کا سچا دوست ہے اور ایران میں پاکستان کے حق میں نعرے لگائے گئے۔
انہوں نے اسرائیل کے ایران پر حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان نے ایران کا بھرپور ساتھ دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہشمند ہے اور جنگ اس کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔
سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک مضبوط اتحادی ہے اور اس نے کسی عہدے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کو اکثریت کے حوالے سے کوئی مشکل نہیں اور نواز شریف کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی خبریں محض افواہیں ہیں، جو کسی کی خواہش ہو سکتی ہیں لیکن حقیقت نہیں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کہ پاکستان نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے ہے اور
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔