عالمی جوہری ایجنسی نے سکیورٹی خدشات پر اپنے معائنہ کاروں کو ایران سے نکال لیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنے معائنہ کاروں کو ایران سے واپس بلا لیا ہے۔
ایجنسی کے مطابق، معائنہ کاروں کی آخری ٹیم آج بحفاظت ایران سے ویانا میں واقع ہیڈ کوارٹر پہنچ گئی ہے۔
آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے ایران میں جوہری تنصیبات کی نگرانی اور تصدیقی سرگرمیوں کی جلد از جلد بحالی کے لیے بات چیت کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک قانون نافذ کیا تھا، جس کے تحت آئی اے ای اے کے ساتھ ایران کا تعاون ختم کر دیا گیا۔
اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ نے اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ اور اس کے بعد آئی اے ای اے کے طرز عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایجنسی سے تعاون کی معطلی کے بل کی منظوری دی تھی، جس کی توثیق ایرانی سپریم کونسل نے بھی کر دی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئی اے ای اے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔