عالمی جوہری ایجنسی نے اپنے معائنہ کاروں کو ایران سے نکال لیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
اسلام آباد(اوصاف نیوز)انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے سکیورٹی خدشات پر اپنے معائنہ کاروں کو ایران سے نکال لیا، آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ معائنہ کاروں کی آخری ٹیم آج ایران سے بحفاظت ویانا میں ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پہنچ گئی ہے۔
ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے ایران میں جوہری تنصیبات کی نگرانی اور تصدیقی سرگرمیوں کو جلد از جلد دوبارہ شروع کرنے کے طریقہ کار پر بات چیت کی اہمیت کا اعادہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ 2 روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون ختم کرنے کا قانون نافذ کیا تھا۔ اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ نے اسرائیل ایران جنگ کے بعد آئی اے ای اے کے رویے کو دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ تعاون معطلی کا بل منظور کیا تھا جس کی ایرانی سپریم کونسل نے بھی توثیق کی تھی۔
بھارتی فوج کے اعلیٰ افسر نے مان لی پاکستان کی فوجی طاقت، حیران کن انکشاف
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ا ئی اے ای اے
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔