پاکستان کا پانی روکنا جنگ کے مترادف ہوگا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خانکندی، باکو (اے پی پی،صباح نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت کا پانی کو ہتھیار بنانا خطرناک ہے، کسی قیمت پر اس طرح کی جارحیت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان کا پانی روکنا جنگ کے مترادف ہوگا۔ آذربائیجان میں اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ای سی او سمٹ کی کامیاب میزبانی پر صدرالہام علیوف کومبارکباد دیتا ہوں۔ خانکندی کے تاریخی اور خوبصورت شہر میں پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پرممنون ہیں۔انہوں نے کہا کہ بطورچیئرمین ای سی اوقازقستان کے صدر قاسم جومارت نے اہم خدمات انجام دیں۔ عالمی منظرنامے میں ٹیکنالوجیکل تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں۔ بڑھتے ہوئے باہمی انحصار اور علم کی وسعت کا نیا دور شروع ہو رہا ہے۔ علاقائی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ٹیکنالوجی کی ترقی ناگزیز ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ترقی کے عمل میں رکن ملکوں کے ساتھ اجتماعی کاوشوں میں شریک ہونے پر فخر ہے۔ سمٹ کا موضوع،پائیدار اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط مستقبل،بہت مناسب اور بروقت ہے۔ای سی او رکن ملکوں کوبھی موسمیاتی تبدیلیوں کے گہرے اثرات کا سامناہے۔ پگھلتے گلیشیرز، ، شدید گرمی ، تباہ کن سیلاب اور دیگر چیلنجز کا سامنا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درپیش چیلنجز اجتماعی اقدامات کے متقاضی ہیں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تجاویز بھی پیش کیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ بے امنی پیدا کرنے والی قوتیں اپنے مقاصد کے لیے خطے میں عدم استحکام چاہتی ہیں۔ ایران پر غیر قانونی اور غیر منطقی اسرائیلی حملے اس رجحان کا سب سے حالیہ مظاہرہ تھے۔ پاکستان ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے۔ بیرونی جارحیت کے شعلے نے جنوبی ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کا خطرہ پیدا کردیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ایک بدقسمت واقعے کے بعد بھارت نے غیر ذمے داری کا مظاہر کیا۔ بھارتی اقدامات کامقصدعلاقائی امن کو نقصان پہنچانا تھا۔ دنیا نے ہمارے عوام اوربہادر افواج کے پختہ عزم کامشاہدہ کیا۔ افواج پاکستان نے مثالی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اشتعال انگیزی کاجواب دیا۔ بھارتی جارحیت کے بعد ای سی او ملکوں کی جانب سے پاکستان کے ساتھ یکجہتی پرممنون ہیں۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ غزہ کو تباہی کا سامنا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے غزہ میں انسانیت کا وجود ہی نہیں۔ قحط سالی کی صورتحال،فاقہ کشی، امدادی کارکنوں پر اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ پاکستان دنیا میں کہیں بھی بے گناہ لوگوں پر ظلم ڈھانے والوں کے خلاف کھڑا ہے۔ غزہ ہو یا مقبوضہ کشمیر، مظلوم عوام کیساتھ ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پانی کو ہتھیار بنانا انتہائی تشویشناک ہے۔ عالمی ثالثی عدالت نے فیصلے میں بھارتی اقدامات کو مسترد کر دیا ہے۔ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔ پانی پاکستان کے 24کروڑ عوام کے لیے لائف لائن ہے۔وزیراعظم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کسی بھی صورت بھارت کو اس خطرناک راستے پر چلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بھارتی اقدام پاکستان کے عوام کے خلاف جنگ کے مترادف ہوگا۔اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کا فروغ علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے اہم ہے۔ ای سی او ٹرانسپورٹ کوریڈورز کا آغازخوش آئند ہے۔ اقتصادی نمو اور پیداوار کے لیے ہمارے مشترکہ مقاصد کو حاصل کرنا ہے۔پاکستان ازبکستان کی تعاون کے اسٹریٹیجک اہداف 2035 کی تجویز کی حمایت کرتا ہے۔ آئیے ہم عہد کریں کہ اپنی یکجہتی اور تعاون کو بڑھائیں گے۔ عالمی چیلنجز کو قبول کریں گے۔ اپنی اجتماعی توانائیوں کو مستقبل کی جانب موڑیں گے کیوں کہ اجتماعی توانائی لوگوں کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔علاوہ ازیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان اور ترکیہ کے مابین تمام اہم شعبوں میں تعلقات میں بامعنی پیش رفت کیلیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں رہنمائوں نے تجارت، دفاع، توانائی، علاقائی روابط اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی اہمیت پر زور دیاہے۔جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان سے 17ویں ای سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنمائوں نے ترکیہ پاکستان دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا اور اہم علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور ترکیہ کے مابین تمام اہم شعبوں میں تعلقات میں بامعنی پیش رفت کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنمائوں نے تجارت، دفاع، توانائی، علاقائی روابط اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس مقصد کے لیے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے پر اتفاق ہوا تاکہ دونوں رہنمائوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کو جلد حتمی شکل دی جا سکے۔دریں اثناء وزیر اعظم شہباز شریف نے ای سی او اجلاس میں شرکت کے موقع پر آذر بائیجان کے صدر الہام علیوف سے سائیڈ لائن ملا قات کی ۔ وزیراعظم نے ای سی او کی مثالی میزبا نی پر صدر علیوف کو مبارکباد دی ۔ وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دو ران پاکستان کی حمایت پر آ ذری صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوے کہا کہ مشکل وقت میں آذربائیجان نے پاکستان کا ساتھ دیا ۔ دونوں رہنمائوں نے اقتصادی تعاون میں سرمایہ کاری کے امکانات میں پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ دونوں رہنمائوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ۔ دونوں رہنمائوں نے اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ۔ وزیرا عظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح روابط سے دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں ۔ انہوں نے صدر الہام علیوف کو پاکستان کے دورے کی د عوت بھی دی جو انہوں نے قبول کر لی ۔ قبل ازیںوزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف سے آذربائیجان کے شہر خانکندی میں 17ویں ای سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کی، دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور ازبکستان کے مابین دوطرفہ اور کثیرالجہتی سطحوں پر جاری مضبوط تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم اور ازبک صدر نے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی، تہذیبی اور تاریخی تعلقات پر زور دیا جو متعدد شعبوں میں مضبوط شراکت داری کی ٹھوس بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ دونوں رہنمائوں نے تجارت اور سرمایہ کاری، باہمی روابط، توانائی، علاقائی سلامتی، ثقافت اور عوامی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ملاقات کے دوران، دونوں رہنمائوں نے علاقائی روابط کے منصوبوں، خاص طور پر ٹرانس افغان ریلوے منصوبے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس مقصد کے لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ازبک صدر نے معاہدوں کو حتمی شکل دینے کے لیے اپنے سینئر وزرا کے تاشقند اور اسلام آباد کے دوروں پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعاون کو مزید گہرا اور متنوع بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔دوسری جانب وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آذربائیجان کے شہر خانکندی میں 17ویں اقتصادی تعاون تنظیم( ای سی او) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے ملاقات کی۔ جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور ایران کے مابین تمام شعبوں میں جاری دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا اور پاک ایران تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنی گزشتہ ملاقات کے دوران کئے گئے فیصلوں پر ہونے والی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار بھی کیا۔ دونوں رہنمائوں نے ایران کے خلاف اسرائیل کی بلاجواز جارحیت کے تناظر میں ابھرتی ہوئی علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کی قیادت کو سراہا اور حالیہ بحران کے دوران ایران کے جنگ بندی کے فیصلے کو سراہا۔ وزیراعظم نے ایران کے عوام اور حکومت کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کو دہراتے ہوئے خطے میں امن کے لئے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ایران کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات کے دوران ایرانی صدرڈاکٹر مسعود پیزشکیان نے حالیہ بحران کے دوران عالمی فورمز سمیت ایران کے لیے پاکستان کی مضبوط سفارتی حمایت کو سراہا اور تنازع کو کم کرنے میں پاکستان کے اہم کردار پر اظہار تشکر کیا۔ وزیر اعظم نے ایرانی صدر کو ایرانی سپریم لیڈر کیلیے مبارکباد اور نیک خواہشات کا پیغام بھی دیا۔علاوہ ازیںپاکستان اور آذربائیجان کے درمیان سرمایہ کاری شراکت داری میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور آذربائیجان کی جانب سے پاکستان میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کرلیے گئے ہیں۔وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر قیادت پاکستان میں سرمایہ کاری کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور وزیر اعظم کی موجودگی میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آذربائیجان کے وزیر معیشت میکائل جباروف نے آذربائیجان کی جانب سے پاکستان کے اقتصادی شعبے میں مجموعی طور پر 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کر دیے۔دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کے موقع پر پاکستانی وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ موجود تھا۔وزیر اعظم اور آذربائیجان کے صدر کے درمیان آج خانکندی میں خوش گوار ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے مابین معاہدے پر دستخط ہوئے اور حتمی و مفصل معاہدے پر آذری صدر کے دورہ پاکستان کے دوران دستخط کیے جائیں گے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ معاہدے سے دونوں ممالک کے مابین سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات تاریخی سطح پر پہنچ گئے ہیں اور یہ معاہدہ دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کے مزید فروغ اور تجارتی شراکت داری کی مزید مضبوطی کی ضمانت ثابت ہوگا۔وزیر اعظم کے حالیہ دورے سے قبل نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ، پاکستانی سفارتی مشن اور وفود کی سطح پر اس معاہدے کے پہلو طے ہوئے اور دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے مزید تبادلہ پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف عزم کا اعادہ کیا معاہدے پر دستخط ملاقات کے دوران اور ا ذربائیجان اعظم شہباز شریف اور سرمایہ کاری شعبوں میں تعاون سرمایہ کاری کے دونوں ممالک کے اقتصادی تعاون شہباز شریف نے ذربائیجان کے کہنا تھا کہ شراکت داری پاکستان کے کی جانب سے کے موقع پر پر زور دیا کے درمیان نے کہا کہ پر اتفاق انہوں نے ایران کے کے مابین ترکیہ کے نے ایران تعاون کو کے خلاف پیش رفت کو مزید کے ساتھ کے صدر کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔