یاسر حسین کا طنزیہ حملہ: نادیہ خان کی قانونی دھمکیوں کو ہوا میں اڑا دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
اداکار اور ہدایت کار یاسر حسین نے اپنے مخصوص انداز میں نادیہ خان کی قانونی کارروائی کی دھمکیوں کو سنجیدہ لینے سے انکار کرتے ہوئے انہیں مزید طنز کا نشانہ بنا ڈالا۔
نادیہ خان نے گزشتہ روز ایک ویڈیو میں اپنے ناقدین کو عدالت میں گھسیٹنے کی دھمکی دی تھی، جس پر یاسر حسین نے اپنی شرارتی طبیعت کے ساتھ انھیں طنز کا نشانہ بنایا۔
اپنی انسٹاگرام اسٹوریز میں یاسر نے نادیہ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا، ’’یہ صبا فیصل جی اور ثروت گیلانی نے ہی کچھ بولا ہوگا۔ میرے ڈیڑھ نمبر دینے سے اگر کسی کو برا لگا ہے تو میں سوری کرلیتا ہوں اور ڈھائی نمبر کرلیتا ہوں۔ میرے خیال سے اب سب ٹھیک ہوگا۔‘‘ انہوں نے مزید طنز کرتے ہوئے نادیہ کی مشہور لائن ’’ہیپی ٹو یو‘‘ کو بھی اپنی اسٹوری میں شامل کیا۔
یاسر حسین نے اپنی اسٹوری کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے بالی ووڈ اسٹار سلمان خان کے انداز میں لکھا، ’’میں کروں تو سالا کیریکٹر ڈھیلا ہے‘‘ اور ’’صبا فیصل جی تسی بڑے مذاقیے ہو۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا، ’’تواڈا کتا ٹومی، تے ساڈا کتا، کتا،‘‘ جس کے ساتھ ہنسی کے ایموجیز بھی شامل کیے۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب نادیہ خان نے اپنے ناقدین کو عدالت میں کھینچنے کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے خلاف ذاتی نوعیت کے تبصرے کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گی۔ تاہم، یاسر حسین نے اسے سنجیدگی سے لینے کے بجائے اپنے مخصوص انداز میں طنز کیا۔
سوشل میڈیا پر صارفین یاسر حسین کے اس ردعمل پر تبصرے کر رہے ہیں۔ کئی صارفین نے اسے ’’جیسا کو تیسا‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ کچھ نے یاسر کی حاضر جوابی کو سراہا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت اور بڑھ گیا جب معروف یوٹیوبر جنید اکرم نے یاسر کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا ’’سدھر جاؤ‘‘، جس پر یاسر نے جواب دیا، ’’بھائی میں نہیں ہوں، مومن علی منشی، صبا فیصل اور ثروت گیلانی ہیں۔‘‘
نادیہ خان اور یاسر حسین کے درمیان یہ تنازع کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ گزشتہ ماہ یاسر نے نادیہ کے ڈراموں کو کم ریٹنگ دینے کے دعووں پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان کے پورے کیریئر کی اداکاری کو صرف 1.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یاسر حسین نے نادیہ خان کرتے ہوئے
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن