عزت دینے سے عزت ملتی ہے، زرنش خان کی نادیہ خان پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
پاکستان شوبز انڈسٹری کی سابقہ اداکارہ زرنش خان نے ساتھی اداکارہ و میزبان نادیہ خان کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔
فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر انسٹااسٹوری میں نادیہ خان کے ہانیہ اور دلجیت سے متعلق بیان کو ری شیئر کرتے ہوئے زرنش نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عزت دینے سے عزت ملتی ہے۔
گزشتہ روز سوشل میڈیا پر نادیہ خان کا ہانیہ اور دلجیت سے متعلق ایک وضاحتی بیان وائرل ہو رہا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میری رائے میں تبدیلی ہانیہ کی نہیں بلکہ دلجیت کے مؤقف کی بنیاد پر ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دل بدلنا یا حقیقت کو تسلیم کرنا یوٹرن نہیں ہوتا، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ بہتر انداز میں چیزوں کو دیکھنا عقلمندی ہے۔
زرنش خان نے نادیہ خان کے مذکورہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ کم از کم اب آپ کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ دیگر لوگ کیسا محسوس کرتے ہیں، جب آپ ان کے بارے میں برا بھلا کہتی ہیں۔
انہوں نے لکھا، ’آپ کو کیا حق ہے کہ آپ کسی کے بارے میں ریمارکس پاس کرائیں، ان کا مذاق اُڑائیں یا ان پر تنقید کریں؟‘
زرنش خان نے مزید کہا، ’اپنی باری آئی تو برداشت نہیں لیکن خود جو مرضی اور جہاں مرضی بیٹھ کر کہتی رہیں، یہ اچھا ہے۔ عزت دینے سے عزت ملتی ہے، تھوڑا آپ اپنی زبان پر قابو کریں تاکہ باقی کسی کو موقع نہ ملے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پیغام صرف ان کے لیے نہیں، بلکہ ہماری عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں اپنے کام سے کام رکھنے کی ضرورت ہے۔‘
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نادیہ خان
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔