پاکستان کی شاندار واپسی، جنوبی افریقا کو 9 وکٹوں سے شکست، سیریز 1-1 سے برابر
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی افریقا کو بآسانی 9 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔ جنوبی افریقا کی جانب سے دیا گیا 111 رنز کا معمولی ہدف گرین شرٹس نے صرف ایک وکٹ کے نقصان پر 14ویں اوور میں حاصل کرلیا۔
پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جو درست ثابت ہوا۔ جنوبی افریقی بیٹنگ لائن پاکستانی بولرز کے سامنے مکمل طور پر بے بس نظر آئی اور پوری ٹیم اننگز کے آخری اوور میں 110 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔
پاکستان کی جانب سے فہیم اشرف نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ نوجوان پیسر سلمان مرزا نے اپنے کم بیک میچ میں 3 کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔ نسیم شاہ نے 2 جبکہ ابرار احمد نے ایک وکٹ حاصل کی۔ جنوبی افریقا کی جانب سے ڈیوالڈ بریوس 25، ڈونون فریرا 15، کاربن بوش 11 اور بارٹ مین 12 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔
ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ لائن نے پراعتماد انداز اپنایا۔ صائم ایوب نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 38 گیندوں پر 71 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔ صاحبزادہ فرحان نے 28 رنز بنائے جبکہ کپتان بابر اعظم 11 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ پاکستان نے 14ویں اوور میں ہدف با آسانی حاصل کر کے شائقین کو ایک یکطرفہ جیت کا تحفہ دیا۔
اس کامیابی کے ساتھ تین میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر ہوگئی ہے۔ فیصلہ کن مقابلہ کل لاہور میں ہی کھیلا جائے گا، جس میں دونوں ٹیمیں سیریز جیتنے کے لیے بھرپور عزم کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔ یہ فتح نہ صرف پاکستان کے لیے سیریز میں واپسی کا موقع ہے بلکہ نوجوان کھلاڑیوں، خاص طور پر صائم ایوب اور سلمان مرزا کے لیے اعتماد کا اظہار بھی ہے، جنہوں نے اپنی کارکردگی سے سب کو متاثر کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جنوبی افریقا کے ساتھ
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔