جویریہ سعود کا کراچی کے دفاع میں بیان، شہریوں کی سوچ پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
اداکارہ جویریہ سعود نے ساتھی فنکاراؤں صبا قمر اور عفت عمر کی جانب سے کراچی کو ’گندہ‘ شہر قرار دینے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی گندہ نہیں بلکہ اسے گندہ کہنے والوں کی سوچ گندی ہے۔ گزشتہ روز عفت عمر نے صبا قمر کی حمایت میں ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے سندھ کے دارالحکومت کراچی کو ’گندہ شہر‘ قرار دیا تھا۔ اس سے قبل صبا قمر نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا تھا کہ انہیں کراچی پسند نہیں، وہ وہاں صرف کام کے لیے جاتی ہیں اور کام مکمل ہوتے ہی اسلام آباد واپس آجاتی ہیں۔ میزبان کے اس سوال پر کہ کیا انہوں نے کبھی کراچی منتقل ہونے کا سوچا ہے، صبا قمر نے ’استغفراللہ‘ کہتے ہوئے جواب دیا کہ وہ اس شہر کو پسند نہیں کرتیں۔ ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین اور شوبز شخصیات نے شدید ردعمل دیا تھا۔ اب کراچی سے تعلق رکھنے والی جویریہ سعود نے صبا قمر اور عفت عمر کا نام لیے بغیر انسٹاگرام اسٹوری پر ان کی پوسٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے اپنا موقف پیش کیا ہے۔ جویریہ سعود نے لکھا کہ کراچی گندہ نہیں، گندی صرف ان لوگوں کی سوچ ہے جو اپنے ہی ملک اور شہروں کو برا کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر گندے نہیں ہوتے، انسانوں کی نیت اور سوچ گندی ہوتی ہے۔ اداکارہ نے مزید کہا کہ کراچی ہو یا پاکستان کا کوئی اور شہر، وہ اپنے ملک کے ہر حصے سے محبت کرتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔