عدالت کا محمد شامی کو بڑا جھٹکا، سابقہ اہلیہ اور بیٹی کو ماہانہ کتنی رقم دینگے؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
بھارتی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر محمد شامی کو کلکتہ ہائی کورٹ نے اپنی علیحدہ رہنے والی بیوی حسن جہاں اور بیٹی آئرا کے ماہانہ اخراجات اٹھانے کا حکم دے دیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق شامی ہر ماہ اپنی سابق اہلیہ حسن جہاں کو 1 لاکھ 50 ہزار روپے اور بیٹی آئرا کو 2 لاکھ 50 ہزار روپے بطور نان نفقہ ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔ عدالت نے یہ فیصلہ طلاق کے مقدمے کے دوران سنایا۔
محمد شامی اور حسن جہاں کی شادی 2014 میں ہوئی تھی جبکہ 2015 میں ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ دونوں 2018 میں اُس وقت علیحدہ ہو گئے جب حسن جہاں نے شامی پر گھریلو تشدد اور بیوفائی کے سنگین الزامات عائد کیے۔ تب سے دونوں فریقین کے درمیان عدالت میں نان نفقہ اور دیگر معاملات پر قانونی جنگ جاری ہے۔
حسن جہاں جو شادی سے قبل ماڈلنگ اور اداکاری کے شعبے سے وابستہ تھیں، نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ شامی نے انہیں کام چھوڑنے پر مجبور کیا اور صرف گھریلو خاتون کے طور پر زندگی گزارنے کو کہا۔
انہوں نے کہا کہ وہ شامی سے بے حد محبت کرتی تھیں، اسی لیے یہ سب کچھ قبول کیا، لیکن اب وہ کسی بھی قسم کی آمدنی نہ ہونے کے باعث مکمل طور پر شامی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
ایک نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے حسن جہاں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے ملک میں ایسا قانون موجود ہے جو کسی کو اس کے حقوق دلوانے میں مدد دیتا ہے۔ اگر کوئی تعلق میں آ رہا ہے، تو یہ اس کے چہرے پر نہیں لکھا ہوتا کہ وہ دھوکہ دے گا، مجرم ہوگا یا آپ اور آپ کے بچے کا مستقبل تباہ کرے گا۔ میں بھی ایک ایسی ہی قربانی بنی۔ شامی کو اپنی ضد چھوڑنی چاہیے۔ وہ مجھے برباد نہیں کر سکتا، کیونکہ میں انصاف کے راستے پر ہوں اور وہ ناانصافی کے۔
حسن جہاں کے وکیل امتیاز احمد نے عدالتی فیصلے کو ان کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حسن جہاں 2018 سے مسلسل قانونی دروازے کھٹکھٹا رہی تھیں اور بالآخر ہائی کورٹ نے کھلی عدالت میں یہ فیصلہ سنایا کہ محمد شامی انہیں اور ان کی بیٹی کو مجموعی طور پر 4 لاکھ روپے ماہانہ ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ، جب بھی بیٹی کو کسی قسم کی اضافی مدد کی ضرورت ہو، وہ بھی محمد شامی کی ذمہ داری ہو گی۔
عدالت نے ٹرائل کورٹ کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ چھ ماہ کے اندر اندر اس عبوری حکم کی مرکزی درخواست کا فیصلہ سنایا جائے۔ وکیل کے مطابق اگر مکمل سماعت کے بعد فیصلہ ہوتا ہے تو یہ رقم 6 لاکھ روپے ماہانہ تک بڑھنے کے امکانات موجود ہیں، کیونکہ حسن جہاں کی جانب سے اصل مطالبہ 7 لاکھ روپے خود کے لیے اور 3 لاکھ روپے بیٹی کے لیے کیا گیا تھا۔
عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ مرکزی کیس پر چھ ماہ میں فیصلہ سنایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔