گوجرانوالہ: تشدد کے بارے میں اہلخانہ کو آگاہ کرنے پر سفاک شوہر کی فائرنگ، 7 بچوں کی ماں قتل
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ میں شوہر نے فائرنگ کر کے بیوی کو قتل کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق عفان جی ٹاؤن کے رہائشی جمیل کی 20 سال قبل انجم ناز سے شادی ہوئی جو 7 بچوں کی ماں تھی۔
ملزم کا بیوی انجم ناز کے ساتھ اکثر جھگڑا رہتا تھا، ملزم اکثر مقتولہ کو بلاوجہ تشدد کا نشانہ بناتا تھا۔
گوجرانوالہ پولیس کے مطابق مقتولہ نے میکے فون کر کے شوہر کے تشدد کے بارے میں اپنے اہلخانہ کو آگاہ کیا اور میکے لیجانے کا کہا۔
ملزم نے اسی رنجش پر انجم ناز کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا اور فرار ہو گیا۔
مقتولہ کی لاش اسپتال منتقل کردی گئی اور سبزی منڈی پولیس نے مقدمہ درج کر کے کارروائی کا آغاز کردیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔