اپنے کاغذات نامزدگی کی بنیاد پر مخصوص نشستوں کیلئے عدالت سے رجوع کرنے جا رہا ہوں: علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ اپنے کاغذات نامزدگی کی بنیاد پر مخصوص نشستوں کے لیے عدالت سے رجوع کرنے جا رہا ہوں۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ میں آزاد نہیں پی ٹی آئی کا رکن ہوں، میں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں خود کو آزاد نہیں لکھا، کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی کا نام لکھا تھا۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے 21 جولائی کے انتخابات سے متعلق مشاورت کی جائے گی، حکومت مضبوط ہے، کوئی رکن کہیں نہیں جا رہا، تحریک عدم اعتماد لانے کا شوق رکھنے والے حقیقت دیکھ لیں گے۔
علی امین گنڈاپور نے سوشل میڈیا ٹیم کو حکومت کی زیادہ سے زیادہ کارکردگی پروموٹ کرنے کی ہدایت کی
انہوں نے کہا کہ اس وقت اسمبلی میں ہمارے تمام ارکان آزاد ہیں، پی ٹی آئی کا کوئی رکن نہیں، آئینی بینچ کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کا پہلا فیصلہ ختم ہو گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بجٹ پاس نہ ہوتا تو حکومت جاتی، قصور ہمارا ہوتا، بجٹ نہ پیش کرنے کا پروپیگنڈا اپنوں کا تھا، پارٹی پیٹرن انچیف نے بجٹ منظوری پر اطمینان کا اظہار کیا، 2 ارکان نے بجٹ کے حق میں ووٹ نہیں دیا، سب جانتے ہیں وہ کس کے لوگ ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ دریائے سوات واقعہ کی ڈسکہ کی متاثرہ فیملی کے لواحقین سرکاری نوکری کا تقاضہ کر رہے ہیں، پنجاب ڈومیسائل کی بنیاد پر کے پی میں سرکاری نوکری نہیں مل سکتی۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ لواحقین کو 20 لاکھ روپے فی کس کے حساب سے 2 کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے گا، 2 کروڑ روپے کو کیسے کاروبار کے لیے استعمال کرنا ہے، اس کا بھی مشورہ دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور کاغذات نامزدگی نے کہا کہ
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :