یوکرین کیخلاف جنگ میں روس کی شکست قبول نہیں، چین نے یورپی یونین کو آگاہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کار کو بتایا ہے کہ بیجنگ روس کی یوکرین کے خلاف جنگ میں شکست کو قبول نہیں کر سکتا، کیوں کہ اس سے امریکا کو چین پر پوری توجہ مرکوز کرنے کا موقع مل جائے گا۔
امریکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ بات ایک ایسے عہدیدار نے بتائی ، جسے ان مذاکرات پر بریفنگ دی گئی تھی، اور یہ بیجنگ کے اس دعوے کے برعکس ہے کہ وہ اس تنازع میں غیر جانبدار ہے۔
یہ بات بدھ کو برسلز میں یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس کے ساتھ 4 گھنٹے طویل ملاقات کے دوران سامنے آئی، جس کے بارے میں اس عہدیدار نے کہا کہ یہ سخت مگر باوقار تبادلہ خیال پر مشتمل تھی، جس میں سائبر سیکیورٹی، نایاب معدنیات، تجارتی عدم توازن، تائیوان اور مشرق وسطیٰ جیسے موضوعات شامل تھے۔
اس عہدیدار کے مطابق وانگ یی کے نجی تبصروں سے اشارہ ملتا ہے کہ بیجنگ یوکرین میں ایک طویل جنگ کو ترجیح دے سکتا ہے، تاکہ امریکا کی مکمل توجہ چین پر مرکوز نہ ہو جائے، یہ خدشات ان ناقدین کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں جو کہتے ہیں کہ بیجنگ کا یوکرین کے معاملے پر دعویٰ کردہ غیر جانبدارانہ مؤقف اصل میں اس کے بڑے جغرافیائی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
جمعہ کو چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ سے اس ملاقات کے بارے میں پوچھا گیا، جس کی پہلی خبر ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے دی تھی، تو انہوں نے چین کا دیرینہ مؤقف دہرایا۔
انہوں نے کہا کہ چین یوکرین کے مسئلے کا فریق نہیں، چین کا یوکرین بحران پر مؤقف معروضی اور مستقل ہے، یعنی مذاکرات، جنگ بندی اور امن، یوکرین کا طویل بحران کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین چاہتا ہے کہ اس مسئلے کا سیاسی حل جلد از جلد تلاش کیا جائے، ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ اور متعلقہ فریقین کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس سمت میں تعمیری کردار ادا کرتے رہیں گے۔
یوکرین جنگ پر چین کے عوامی بیانات ایک زیادہ پیچیدہ حقیقت کو چھپاتے ہیں۔
چند ہفتے قبل جب روس نے یوکرین پر مکمل حملہ کیا، چینی صدر شی جن پنگ نے ماسکو کے ساتھ لامحدود شراکت داری کا اعلان کیا، اور تب سے دونوں کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔
چین نے خود کو ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کیا، لیکن سی این این پہلے رپورٹ کر چکا ہے کہ بیجنگ کے لیے اس تنازع میں داؤ بہت زیادہ ہے، خاص طور پر روس جیسے بڑے شراکت دار کو کھونے کا خطرہ ہے۔
چین نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ وہ روس کو تقریباً فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، یوکرین نے کئی چینی کمپنیوں پر روس کو ڈرون پرزے اور میزائل سازی کے لیے ٹیکنالوجی فراہم کرنے پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
4 جولائی کو روس کے ڈرون اور میزائل حملے کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف کے مضافات سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔
اسی دن یوکرین کے نائب وزیر خارجہ، اندریئی سبیہا نے تصاویر پوسٹ کیں، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ روس کی جانب سے داغے گئے گران 2 جنگی ڈرون کے ملبے کے ٹکڑے ہیں، ایک تصویر میں ڈرون پر 20 جون کو چین میں تیار کردہ لکھا ہوا دکھایا گیا تھا۔
سبیہا نے مزید کہا کہ اسی رات روسی حملوں کے نتیجے میں اودیسہ میں واقع چینی قونصل خانے کی عمارت کو معمولی نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ اس سے بہتر استعارہ اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ کس طرح پیوٹن اپنی جنگ اور دہشت کو بڑھاتا جا رہا ہے، اور دوسروں کو، بشمول شمالی کوریائی فوجی، ایرانی ہتھیار، اور کچھ چینی صنعت کاروں کو اس میں شامل کر رہا ہے، یورپ، مشرق وسطیٰ، اور انڈو پیسفک کی سیکیورٹی ایک دوسرے سے گہری طور پر جڑی ہوئی ہے۔
اس سال یہ الزامات بھی سامنے آئے کہ کچھ چینی شہری روس کے ساتھ مل کر یوکرین میں لڑ رہے ہیں، بیجنگ نے کسی بھی قسم کی شمولیت سے انکار کیا ہے، اور اپنے شہریوں کو پہلے کی طرح خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی فریق کی عسکری کارروائیوں میں حصہ لینے سے گریز کریں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: یوکرین کے کہ بیجنگ انہوں نے کے ساتھ کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔