Jasarat News:
2026-07-24@08:17:49 GMT

کراچی اور جماعت اسلامی

اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی… پاکستان کا وہ شہر جسے ملک کی معیشت کی شہ رگ، مالیاتی مرکز اور صنعتی دل کہا جاتا ہے، آج بدترین زبوں حالی کا شکار ہے۔ یہ شہر جو ملک کی کل آبادی کا دس فی صد اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، 54 فی صد قومی ٹیکس دیتا ہے، 70 فی صد برآمدات کا مرکز ہے، وفاق کو انکم ٹیکس کی مد میں 42 فی صد اور سندھ حکومت کو 96 فی صد سے زائد آمدنی مہیا کرتا ہے، اس کا حال یہ ہے کہ شہر کی گلیاں کھنڈرات، سڑکیں گڑھوں، نظام بدعنوانی، اور شہری سہولتیں ایک طویل خواب بن چکی ہیں۔ کسی بھی حکومت کی نیت یا پالیسی میں کراچی کی ترقی نظر نہیں آتی۔ جو بجٹ پیش کیے جاتے ہیں، وہ محض لفظوں کا ہیر پھیر اور اعداد و شمار کی جگالی ہوتے ہیں۔ منعم ظفر خان کی زیرِ قیادت جماعت اسلامی نے حالیہ پریس کانفرنس میں جو حقائق رکھے، وہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ شہر قائد کے باسیوں کے درد کی زبان ہے۔ 2025-26 کے بجٹ میں وفاق اور سندھ نے کراچی کے ساتھ جو سلوک روا رکھا، وہ اسی استحصال کی ایک تازہ کڑی ہے۔ سندھ حکومت کے 3451 ارب روپے کے بجٹ میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے لیے صرف 37 ارب 44 کروڑ روپے رکھنا اس امر کا اعلان ہے کہ شہر کی اصل حیثیت اور اس کے مسائل سے جان بوجھ کر نظریں چرائی جا رہی ہیں۔ کے ایم سی کا موجودہ بجٹ 55 ارب روپے ہے، جو بیس سال قبل 2005 میں 43 ارب روپے تھا، جب ڈالر محض 56 روپے کا تھا، جبکہ آج 280 روپے سے زائد ہے۔ کیا یہ ترقی ہے یا زوال؟ منعم ظفر خان کا یہ مطالبہ کہ کراچی کے لیے کم از کم 500 ارب روپے مختص کیے جائیں، ہر اعتبار سے جائز اور حقیقت پسندانہ ہے۔ ان کا یہ کہنا درست ہے کہ میگا سٹی کے تقاضے محض بلدیاتی کاغذی کارروائیوں اور سیاسی بندر بانٹ سے پورے نہیں ہوتے۔ 9 ٹاؤنز میں جماعت اسلامی کے نمائندوں کی کارکردگی نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور وژن موجود ہو تو مختصر وسائل سے بھی عوامی خدمت کی جا سکتی ہے۔ ان ٹاؤنز نے تعلیم، صحت، انفرا اسٹرکچر، اور ماحولیات جیسے شعبوں میں جو بجٹ ترتیب دیا، وہ قابل تقلید مثال ہے۔ شہر کی حالت اس قدر ناگفتہ بہ ہو چکی ہے کہ اب کراچی کی پہچان بلند عمارتیں نہیں بلکہ کچی آبادیاں، تجاوزات، پانی کی قلت، ٹریفک جام، گندگی، غیر معیاری رہائشی اسکیمیں، اور ماحولیاتی تباہی بن چکی ہے۔ اسکیم 33 جیسے علاقے مافیاز کے کنٹرول میں ہیں، شہر کے درخت کاٹے جا رہے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیل رہے ہیں، اور شہری سانس لینے کے لیے صاف ہوا تک کو ترس رہے ہیں۔ تعلیم کا عالم یہ ہے کہ سندھ کے 44 فی صد بچے پرائمری کے بعد اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ لاکھوں اسکولوں میں چار دیواری، پانی یا بجلی جیسی بنیادی سہولتیں تک میسر نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جو بجٹ رکھا جاتا ہے، وہ بھی استعمال نہیں ہو پاتا۔ وفاق اور صوبے کی مسلسل بے حسی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ انہیں کراچی کے عوام کی مشکلات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ مسلم لیگ ن کبھی کراچی کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کر سکی اور پیپلز پارٹی و ایم کیو ایم نے شہر کو مافیاز کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اسے بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے سابق ناظم نعمت اللہ خان کے دور کی کارکردگی اور موجودہ منتخب جماعت اسلامی کے افراد کا کام اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت درست ہو تو کراچی کو دوبارہ سنوارا جا سکتا ہے۔ منعم ظفر خان نے حق بجانب ہو کر یہ بات کہی کہ کراچی کے لیے نہ وفاق کے پاس وژن ہے اور نہ صوبے کے پاس اخلاص۔ وفاق کی طرف سے کے فور کے منصوبے کے لیے محض 3.

2 ارب روپے رکھنا اور آئی ٹی پارک جیسے اہم منصوبے کے لیے مطلوبہ 42 ارب کے مقابلے میں صرف 6 ارب دینا کراچی دشمنی نہیں تو اور کیا ہے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ کراچی کے عوام اپنے حق کے لیے بیدار ہوں۔ جماعت اسلامی کی ’’حق دو کراچی‘‘ تحریک کوئی وقتی احتجاج نہیں، بلکہ ایک عوامی جدوجہد ہے جس کی بنیاد انصاف، خدمت، اور شفافیت پر رکھی گئی ہے۔ کراچی اب محض پانی، بجلی، گیس، سڑک، یا ٹرانسپورٹ کا مسئلہ نہیں رہا؛ یہ ریاستی نااہلی، سیاسی استحصال اور مجرمانہ غفلت کا زندہ نمونہ بن چکا ہے۔ اب اگر شہر کے عوام خاموش رہے تو یہ خاموشی ان کے بچوں کے مستقبل کو بھی اندھیروں کی نذر کر دے گی۔ اس شہر کو آواز دینی ہوگی اور یہ آواز صرف سیاسی نعروں سے نہیں، منظم عوامی مزاحمت سے آئے گی۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی کے ارب روپے کے لیے

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 

کراچی (نوائے وقت رپورٹ) ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ سپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا کہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزموں نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ 13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بنک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزم بنک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف