Daily Mumtaz:
2026-06-03@04:24:17 GMT

  پلاسٹک کی بوتلیں جمع کرائیں اور 1000 روپے فوری پائیں 

اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT

  پلاسٹک کی بوتلیں جمع کرائیں اور 1000 روپے فوری پائیں 

لاہور: وزیراعلیٰ گرین کریڈٹس پروگرام کے تحت پنجاب حکومت کا نجی کمپنی کے ساتھ سنگل یوز پلاسٹک کو ری سائیکل کرنے کے لیے معاہدہ طے پا گیا۔
 نجی کمپنی چینی ٹیکنالوجی کی مدد سے مقامی طور پر تیار کی گئی مشینیں آئندہ ماہ لاہور کی چار بڑی جامعات میں نصب کرے گی۔ شہر کی مارکیٹوں اور بازاروں میں بھی ایسی مشینیں لگائی جائیں گی۔
یہ مشین دو خانوں پر مشتمل ہے، بٹن اے دبائیں اور پلاسٹک کی بوتل اس میں ڈالیں پھر اپنا فون نمبر درج کریں اور بٹن بی دبا دیں۔ مشین کی اسکرین پر گرین کریڈٹس ظاہر ہوں گے جسے ایپ کی مدد سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
 نجی کمپنی کے چیئرمین گلفام عابد کے مطابق روزانہ 5 سو ٹن پلاسٹک بوتل کا کچرا ہوتا ہے، مشینری کی مدد سے پلاسٹک کی بوتلیں اور سنگل یوز پلاسٹک کے برتن ری سائیکل کیے جائیں گے اور ان سے فٹ پاتھ، سڑکوں کے پیچ ورک اور اینٹیں بنائی جائیں گی۔
ان کا کہنا تھاکہ ڈیڑھ لیٹر کی 20 بوتلیں اور ہاف لیٹر کی 40 بوتلیں مشین میں ڈالنے پر ایک ہزار روپے فوری کیش ملے گا۔
 گرین کریڈٹس میں صرف عام شہری ہی نہیں بلکہ لاہور کے 18 ہزار کباڑیے بھی مستفید ہو سکیں گے۔ وہ ایپ کے ذریعے رابطہ کریں گے اور کمپنی ملازم خود جا کر انہیں رقم دے کر بوتلیں لیں گے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ