پلاسٹک کی بوتلیں جمع کرائیں اور 1000 روپے فوری پائیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
لاہور: وزیراعلیٰ گرین کریڈٹس پروگرام کے تحت پنجاب حکومت کا نجی کمپنی کے ساتھ سنگل یوز پلاسٹک کو ری سائیکل کرنے کے لیے معاہدہ طے پا گیا۔
نجی کمپنی چینی ٹیکنالوجی کی مدد سے مقامی طور پر تیار کی گئی مشینیں آئندہ ماہ لاہور کی چار بڑی جامعات میں نصب کرے گی۔ شہر کی مارکیٹوں اور بازاروں میں بھی ایسی مشینیں لگائی جائیں گی۔
یہ مشین دو خانوں پر مشتمل ہے، بٹن اے دبائیں اور پلاسٹک کی بوتل اس میں ڈالیں پھر اپنا فون نمبر درج کریں اور بٹن بی دبا دیں۔ مشین کی اسکرین پر گرین کریڈٹس ظاہر ہوں گے جسے ایپ کی مدد سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
نجی کمپنی کے چیئرمین گلفام عابد کے مطابق روزانہ 5 سو ٹن پلاسٹک بوتل کا کچرا ہوتا ہے، مشینری کی مدد سے پلاسٹک کی بوتلیں اور سنگل یوز پلاسٹک کے برتن ری سائیکل کیے جائیں گے اور ان سے فٹ پاتھ، سڑکوں کے پیچ ورک اور اینٹیں بنائی جائیں گی۔
ان کا کہنا تھاکہ ڈیڑھ لیٹر کی 20 بوتلیں اور ہاف لیٹر کی 40 بوتلیں مشین میں ڈالنے پر ایک ہزار روپے فوری کیش ملے گا۔
گرین کریڈٹس میں صرف عام شہری ہی نہیں بلکہ لاہور کے 18 ہزار کباڑیے بھی مستفید ہو سکیں گے۔ وہ ایپ کے ذریعے رابطہ کریں گے اور کمپنی ملازم خود جا کر انہیں رقم دے کر بوتلیں لیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔