2026 کے لیے درخواستوں کا سلسلہ جاری، 95 ہزار سے زائد موصول
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: وزارت مذہبی امور کو حج 2026 کے لیے سرکاری اسکیم کے تحت 95 ہزار 100 افراد کی درخواستیں موصول ہو گئیں، درخواستوں کی وصولی 16 اگست تک جاری رہے گی۔
ترجمان وزارت مذہبی امور عمر بٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر اب تک 95 ہزار 100 افراد نے سرکاری سکیم کے تحت درخواستیں دے دی ہیں جبکہ 23 ہزار کی تعداد اب بھی باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 16 اگست تک درخواستوں کی وصولی کا عمل جاری رہے گا، جو افراد بھی درخواست دینا چاہیں وہ اپنے متعلقہ بینک میں جا کر یا وزارت مذہبی امور کےآن لائن پورٹل پرجا کر اپنی حج کی درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔
جشن آزادی کی خوشیاں، برائلر گوسشت کی نئی قیمت کیا؟
خیال رہے کہ پاکستان کا رواں سال حج کوٹہ ایک لاکھ 79 ہزار 210 افراد کا ہے، حج پالیسی کے تحت 70 فیصد افراد سرکاری سکیم اور 30 فیصد افراد پرائیویٹ سکیم کے تحت فریضہ حج ادا کریں گے۔
گزشتہ ماہ وفاقی کابینہ نے باضابطہ طور پر حج پالیسی 2026 کی منظوری دی تھی، جس میں حج سیزن کے لیے اہم طریقہ کار، مالی اور لاجسٹک اقدامات بیان کیے گئے تھے۔
وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کے لیے کل ایک لاکھ 79 ہزار 210 عازمین کا کوٹہ مختص کیا ہے، (ایک لاکھ 19 ہزار 210 سرکاری اسکیم کے تحت اور 60 ہزار نجی آپریٹرز کے لیے) جو سعودی حکام کی حتمی منظوری سے مشروط ہے۔
پنجاب پولیس میں بھرتیاں, ویٹنگ لسٹ کے امیدواروں کیلئے بڑی خوشخبری
انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکیم میں روایتی 38 تا 42 روزہ پیکج کے ساتھ ساتھ مختصر 20 تا 25 روزہ آپشن بھی دیا جائے گا۔
تخمینی اخراجات 11 لاکھ 50 ہزار سے 12 لاکھ 50 ہزار روپے کے درمیان ہوں گے، جو سروس فراہم کرنے والوں کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں پر منحصر ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
بھارت کی ریاست آسام میں شدید مون سون بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق شدید سیلابی صورتحال سے کم از کم 50 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً 7 لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔
دریائے برہم پترا کے پانی میں اضافے سے تقریباً 900 دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ تقریباً 3 لاکھ افراد کو سرکاری ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں خوراک اور امدادی سامان ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے۔
ریاستی دارالحکومت گوہاٹی سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں زیرِ آب آنے سے آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق مسلسل بارشوں اور دریا کی بلند سطح کے باعث صورتحال بدستور تشویشناک ہے اور متاثرہ علاقوں میں مزید امدادی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔