ایشیا کے امیر ترین آدمی مکیش امبانی کو اپنی کمپنی سے کتنی تنخواہ ملتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
ایشیا کے امیر ترین شخص مکیش امبانی، جن کی دولت کا تخمینہ 98 ارب ڈالر لگایا جاتا ہے، ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔
حیران کن طور پر وہ گزشتہ 5 برس سے کمپنی میں بغیر تنخواہ کے کام کر رہے ہیں۔
یہ فیصلہ انہوں نے کووڈ-19 وبا کے دوران کیا تھا، جب دنیا بھر کی کمپنیوں کو مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ اس سے قبل 2008 سے 2020 تک مکیش امبانی کو ریلائنس کی طرف سے سالانہ 15 کروڑ بھارتی روپے بطور تنخواہ ادا کیے جاتے تھے۔ کمپنی کے گوشواروں کے مطابق وہ کسی قسم کے الاؤنسز یا مراعات بھی نہیں لیتے۔
دوسری طرف ان کے بیٹے اننت امبانی، آکاش امبانی اور ایشا امبانی ہر سال 2.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مکیش امبانی
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘