ہم عہد دہراتے ہیں پاکستان کے عالمی وقار کو مزید بلند کرینگے: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے 78 ویں یومِ آزادی کے موقع پر پوری قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔نائب وزیراعظم، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یوم آزادی پر بیان میں کہا کہ اپنے آباؤ اجداد کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، ان کی لازوال قربانیوں اور ثابت قدمی سے پاکستان معرضِ وجود میں آیا، جب تک ہم "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہﷺ" کے پرچم تلے متحد ہیں، کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ میں اپنی مسلح افواج اور عوام کے عزم و حوصلے کو سراہتا ہوں، اجتماعی ثابت قدمی ہماری عسکری تیاری کا مظہر ہے، یہ ایک اصولی اور مؤثر خارجہ پالیسی کی عکاسی بھی کرتی ہے، پاکستان باہمی احترام، علاقائی سکون اور امن پر مبنی سفارتکاری کے اپنے عزم پر قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہم یہ عہد دہراتے ہیں کہ پاکستان کے عالمی وقار کو مزید بلند کریں گے، میں ہر شہری سے اپیل کرتا ہوں کہ متحد رہیں، جمہوری اقدار کی حفاظت کریں، ایک مضبوط، باوقار اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔