ہم عہد دہراتے ہیں پاکستان کے عالمی وقار کو مزید بلند کرینگے: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے 78 ویں یومِ آزادی کے موقع پر پوری قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔نائب وزیراعظم، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یوم آزادی پر بیان میں کہا کہ اپنے آباؤ اجداد کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، ان کی لازوال قربانیوں اور ثابت قدمی سے پاکستان معرضِ وجود میں آیا، جب تک ہم "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہﷺ" کے پرچم تلے متحد ہیں، کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ میں اپنی مسلح افواج اور عوام کے عزم و حوصلے کو سراہتا ہوں، اجتماعی ثابت قدمی ہماری عسکری تیاری کا مظہر ہے، یہ ایک اصولی اور مؤثر خارجہ پالیسی کی عکاسی بھی کرتی ہے، پاکستان باہمی احترام، علاقائی سکون اور امن پر مبنی سفارتکاری کے اپنے عزم پر قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہم یہ عہد دہراتے ہیں کہ پاکستان کے عالمی وقار کو مزید بلند کریں گے، میں ہر شہری سے اپیل کرتا ہوں کہ متحد رہیں، جمہوری اقدار کی حفاظت کریں، ایک مضبوط، باوقار اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔