پنجاب کابینہ: دوران ڈیوٹی وفات پانے والے ملازم کی بیوہ کو تاحیات پنشن، پانچویں، آٹھویں کا سرکاری امتحان ہو گا
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے 28 ویں اجلاس میں 130 نکاتی ایجنڈا پیش کیا گیا اور اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے پنجاب میں صنعتی ورکرز کے لئے 1220فلیٹس دینے کی منظوری دے دی۔ لیبر کمپلیکس سندر، قصور، لیبر کالونی ٹیکسلا میں ورکرز کو قرعہ اندازی کے ذریعے فلیٹس ملیں گے۔ مریم نواز نے ورکرز سے فلیٹس کی قیمت وصول کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے صنعتی ورکرزکے لئے مزید 3ہزار فلیٹس بنانے کے لئے فوری اقدامات کا حکم دیا۔ کابینہ نے ہنر مند، نیم ہنرمند اور دیگر 102 کیٹگریز کے ورکرز کی تنخواہ یکساں طور پر 40ہزار کرنے کی منظوری دے دی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے فلڈ ڈیوٹی سرانجام دینے والے ریسکیو اہلکاروں کے لئے 50،50 ہزار روپے انعام کا اعلان کیا۔ کابینہ نے طوفانی بارشوں کے بعد سیلاب کے دوران ریلیف کارروائیوں پر ریسکیو 1122کو سراہا۔ پنجاب میں کلاس پانچویں اور آٹھویں کے امتحانات سرکاری طور پر لینے کی منظوری دے دی۔پانچویں کلاس کے طلبہ کا جائزہ اور آٹھویں کلاس کے طلبہ کا باقاعدہ امتحان ہوگا۔ دوران ڈیوٹی وفات پانے والے ملازمین کی بیوہ کو تاحیات پنشن دینے کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے جیلوں میں قیدیوں کے لئے باقاعدہ انڈسٹری قائم کرنے کا حکم دے دیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مزدوری کرنے والے قیدیوں کو اجرت بھی ملے گی۔ مریم نواز نے جیلوں میں مانیٹرنگ کا فول پروف سسٹم وضع کرنے کی ہدایت کی۔ اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے تاریخی اقدامات کی منظوری دی جس کے تحت پٹرول پمپس کے قیام کے لئے آن لائن ایپلی کیشن کی بھی منظوری دی گئی۔ سرمایہ کاروں کو 16 کی بجائے صرف 6دستاویزات پیش کرنے ہونگے۔ آن لائن اپلائی کرکے سرمایہ کار آن لائن این او سی حاصل کر سکیں گے۔ کابینہ نے پنجاب میں پہلی مرتبہ ورکرز کی سیفٹی کے لئے جامع رولز کی منظوری دے دی۔ پنجاب ایکو پیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ رولز2024 کی منظوری دے دی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سیور لائن اور تعمیراتی کام کرنے والے مزدوروں کی سیفٹی یقینی بنانے کا حکم دیا۔ ورکرز کی سیفٹی یقینی بنانے کے لئے لیبر ڈیپارٹمنٹ کو انفورسمنٹ فورس بنانے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صرف قوانین بنانا کافی نہیں ہر سطح پر عملدرآمد ضروری ہے۔ غریب ورکرز اور مزدوروں کی جان بھی قیمتی ہے، ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنائیں گے۔ اجلاس میں چائلڈ لیبر روکنے کے لئے پنجاب ریسکٹریکشن آن ایمپلائیمنٹ آف چلڈرن رولز 2024ء کے مسودے گورنمنٹ اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں خزانچی رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات کی تعیناتی کا یکساں طریقہ کار نافذ کرنے کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب بھر میں آڈٹ رپورٹس پر ضروری اقدامات اور مانیٹرنگ کی ہدایت کی۔ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر کی تعیناتی کے لئے مارکیٹ سے ہایئرنگ کی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔ کابینہ نے وائس چانسلر کے لئے کم از کم 80 فیصد مارکس حاصل کرنے کی منظوری دے دی۔ پنجاب کی سڑکوں پر اے آئی(AI) ٹریفک مینجمنٹ سسٹم 90دن کے اندر نافذ ہوجائے گا۔ وزیراعلیٰ نے سڑکوں پر ایکسل روڈ مینجمنٹ سسٹم اور روڈز کی حفاظت کیلئے دیگر قوانین کا نفاذ یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ پنجاب کے 5 ڈویژن میں واسا کے قیام کی منظوری دی گئی۔ مزید 13شہروں میں واسا قائم کیے جائیں گے۔ نرسز کو سرکاری ہسپتالوں میں پیڈ انٹرن شپ کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے حکومت پنجاب اور ڈیئر فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، ہوبارہ انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے درمیان ایم او یو کی منظوری دے دی۔ مقامی پرندوں کے تحفظ کے لئے ریگولیٹری فریم ورک کی منظوری بھی دی گئی۔ پی ڈی ایم اے کو 2.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: میں توسیع کی منظوری دی گئی مریم نواز شریف نے اسامیوں پر بھرتی کی منظوری دے دی کرنے کی منظوری کی ہدایت کی کابینہ نے اجلاس میں کے تحت کے لئے کی بھی کے لیے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔