پنجاب کابینہ: کم از کم اجرات 40 ہزار کرنے سمیت اہم فیصلوں کی منظوری دے دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی صدارت میں صوبائی کابینہ کا 28 واں اجلاس منعقد ہوا جس میں 130 نکاتی ایجنڈے کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں پنجاب کے صنعتی ورکرز کے لیے بڑی خوشخبری سنائی گئی اور لیبر کمپلیکس سندر، قصور اور لیبر کالونی ٹیکسلا میں 1220 فلیٹس الاٹ کرنے کی منظوری دی گئی۔ فلیٹس قرعہ اندازی کے ذریعے تقسیم کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے ورکرز سے فلیٹس کی قیمت وصول کرنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے مزید 3 ہزار فلیٹس کی فوری تعمیر کے احکامات بھی جاری کیے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کابینہ کے 25ویں اجلاس میں کیا اہم فیصلے کیے گئے؟
کابینہ نے ہنرمند، نیم ہنرمند اور 102 دیگر کیٹیگریز میں شامل ورکرز کی تنخواہ 40 ہزار روپے یکساں طور پر مقرر کرنے کی منظوری دی۔ فلڈ ڈیوٹی انجام دینے والے ریسکیو اہلکاروں کے لیے وزیراعلیٰ نے 50، 50 ہزار روپے انعام کا اعلان کیا۔ ریسکیو 1122 کی سیلابی صورتحال میں امدادی کارروائیوں کو سراہا گیا۔
اجلاس میں پنجاب میں پانچویں جماعت کے طلبہ کے لیے جائزہ اور آٹھویں جماعت کے طلبہ کے لیے باقاعدہ امتحانات سرکاری سطح پر لینے کی منظوری دی گئی۔ سرکاری ملازمین کی بیواؤں کو تاحیات پنشن دینے کی بھی منظوری دی گئی۔
وزیراعلیٰ نے جیلوں میں قیدیوں کے لیے باقاعدہ انڈسٹری قائم کرنے اور انہیں اجرت دینے کا اعلان کیا۔ قیدیوں کی نگرانی کے لیے تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ سسٹم متعارف کروانے کی ہدایت بھی دی گئی۔
سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بڑا اقدام کرتے ہوئے پیٹرول پمپس کے قیام کے لیے آن لائن اپلائی اور این او سی کے حصول کی سہولت منظور کی گئی۔ اب صرف 6 دستاویزات درکار ہوں گی۔ پہلی بار ورکرز کی سیفٹی کے لیے جامع قوانین ’پنجاب ایکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ رولز 2024‘ کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے سیور لائن اور تعمیراتی کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کو انفورسمنٹ فورس بنانے کا حکم دیا۔
چائلڈ لیبر کی روک تھام کے لیے ’پنجاب رسٹریکشن آن ایمپلائیمنٹ آف چلڈرن رولز 2024‘ کی منظوری دی گئی۔ سرکاری و نجی یونیورسٹیوں میں خزانچی، رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات کی تعیناتی کا یکساں طریقہ کار منظور کیا گیا۔ وائس چانسلرز کی مارکیٹ بیسڈ ہائرنگ پر اتفاق کیا گیا اور تقرری کے لیے کم از کم 80 فیصد مارکس کا معیار طے کیا گیا۔
ٹریفک نظام میں انقلابی قدم کے طور پر 90 دن کے اندر اے آئی بیسڈ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے اور ایکسل روڈ مینجمنٹ سسٹم کے فوری نفاذ کی ہدایت دی گئی۔ پنجاب کے 5 ڈویژنز میں واسا کے قیام اور مزید 13 شہروں تک توسیع کی منظوری دی گئی۔ سرکاری ہسپتالوں میں نرسز کے لیے پیڈ انٹرن شپ کا آغاز بھی منظور ہوا۔
کسان کارڈ پروگرام کے تحت 6 لاکھ 90 ہزار کسانوں کو 93 ارب روپے جاری کیے گئے جن میں سے 47 ارب زرعی مداخل پر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ ہائی ٹیک میکانائزیشن منصوبے کے تحت نئے ٹریکٹر سازی کے کارخانے قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔ مقامی پرندوں کے تحفظ کے لیے ڈیئر فاؤنڈیشن انٹرنیشنل و دیگر اداروں سے ایم او یو اور ریگولیٹری فریم ورک بھی منظور کیا گیا۔
پی ڈی ایم اے کو 2.
پھاٹا کے بجٹ کی منظوری کا اختیار گورننگ باڈی کو دینے اور اس کی مانیٹرنگ کا نظام وضع کرنے کی منظوری دی گئی۔ انرجی ہولڈنگ کمپنی، ہوم ڈیپارٹمنٹ اور دیگر اداروں میں ملازمین کی مدتِ ملازمت میں توسیع دی گئی۔ لیٹریسی ڈیپارٹمنٹ کو اسکول ونگ کے ساتھ منسلک کرنے اور 590 ملازمین کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
ایس پی یو، خواتین پر تشدد کے سدباب کے لیے قائم سینٹر ملتان، پنجاب فنانشل ایڈوائزری سروسز، ڈرائیورز، پیٹرول اسسٹنٹس، اور سکل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں نئی بھرتیوں کی منظوری دی گئی۔ وائلڈ لائف، کوالٹی کنٹرول بورڈ، اسپتالوں، اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی میں بھی بھرتیوں کی منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کابینہ: اسپیشل افراد، بزرگوں اور طلبہ کے لیے مفت سفر کی منظوری
سیمنٹ پلانٹس کے این او سی کی مدت میں توسیع، سپورٹس بورڈ کی تنظیم نو، اہم مہمانوں کی سیکیورٹی کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں، پنجاب ڈرگ رولز میں ترمیم، انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ایکٹ 2025، ٹیلی کام سیکٹر کو سرکاری اراضی پر لیز، شوگر کین ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ اور لوکم ریکروٹمنٹ ایکٹ 2025 کی بھی منظوری دی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پنجاب کابینہ فیصلوں کی منظوری کابینہ اجلاس کم از کم اجرت مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب کابینہ فیصلوں کی منظوری کابینہ اجلاس مریم نواز وی نیوز کرنے کی منظوری دی کی منظوری دی گئی پنجاب کابینہ بھی منظور کی ہدایت کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔