سینیٹ کے ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کا امیدوارکامیاب
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
سٹی42: خیبرپختونخوا میں سینیٹ کی نشست پرضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کامیاب ہوگئے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں شبلی فراز کی نا اہلی کے باعث سینیٹ کی نشست خالی ہو گئی تھی۔ اس نشست پر نئے سرے سے انتخاب کروایا گیا۔ آج پولنگ کا عمل مکمل ہوا تو غیرحتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق 145 کے ایوان میں137 ارکان نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ تحریک انصاف کےحمایت یافتہ امیدوار خرم ذیشان 91 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار تاج محمد آفریدی 45 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات
ایوان میں حکومتی ممبران کی تعداد 92 جبکہ اپوزیشن ممبران کی تعداد 53 ہے۔
ایک ووٹ مسترد ہوا۔ اے این پی کے 4 ممبران نے الیکشن بائیکاٹ کے باعث ووٹ نہیں ڈالے تاہم جے یو آئی کے اکرم خان درانی، پی ٹی آئی پی کی رکن نادیہ شیر ، پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کی رکن فرزانہ اور آزاد رکن علی ہادی ووٹ ڈالنے بھی غیر حاضر رہے۔
کامیابی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے کہا کہ آج ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ خیبر پختونخوا کے ارکان عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ جیت تحریک انصاف اور جمہوریت کی کامیابی ہے، خرم ذیشان آئین کی پاسداری اور قانون کی بالادستی کی بات کریں گے۔
چارکروڑانسانوں کےکھانےکی امدادبند؛ سپرپاورکی گلیوں میں کہرام کا آغاز
نومنتخب سینیٹر خرم ذیشان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہمارا پہلا ہدف بانی چیئرمین کی رہائی ہے، آج کی جیت دراصل بانی چیئرمین کی جیت ہے۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی
پڑھیں:
غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
اسلام آباد:سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔
سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔
کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔
کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔
سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔
اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔