City 42:
2026-06-03@05:33:33 GMT

 سینیٹ کے ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کا امیدوارکامیاب

اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT

سٹی42:  خیبرپختونخوا میں سینیٹ کی نشست پرضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کامیاب ہوگئے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں شبلی فراز کی نا اہلی کے باعث سینیٹ کی نشست  خالی ہو گئی تھی۔ اس نشست پر نئے سرے سے انتخاب کروایا گیا۔ آج پولنگ کا عمل مکمل ہوا تو غیرحتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق 145 کے ایوان میں137 ارکان نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ تحریک انصاف کےحمایت یافتہ امیدوار خرم ذیشان 91 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار تاج محمد آفریدی 45 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ 

وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات

 ایوان میں حکومتی ممبران کی تعداد 92 جبکہ اپوزیشن ممبران کی تعداد 53 ہے۔ 

ایک ووٹ مسترد ہوا۔ اے این پی کے 4 ممبران نے الیکشن بائیکاٹ کے باعث ووٹ نہیں ڈالے تاہم جے یو آئی کے اکرم خان درانی، پی ٹی آئی پی کی رکن نادیہ شیر ، پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کی رکن فرزانہ اور آزاد رکن علی ہادی ووٹ ڈالنے بھی غیر حاضر رہے۔

کامیابی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے کہا کہ آج ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ خیبر پختونخوا کے ارکان عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ جیت تحریک انصاف اور جمہوریت کی کامیابی ہے، خرم ذیشان آئین کی پاسداری اور قانون کی بالادستی کی بات کریں گے۔ 

چارکروڑانسانوں کےکھانےکی امدادبند؛ سپرپاورکی گلیوں میں کہرام کا آغاز

نومنتخب سینیٹر خرم ذیشان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہمارا پہلا ہدف بانی چیئرمین کی رہائی ہے، آج کی جیت دراصل بانی چیئرمین کی جیت ہے۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی