نواز شریف اڈیالہ جیل کا دروازہ کھلوا سکتے ہیں، طارق فضل چوہدری کا صحافی کو جواب
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاہے کہ بجٹ اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن بینچز پر جا کر سیاسی خیر سگالی کا اظہار کیا، نوازشریف اڈیالہ جیل کا دروازہ کھلوا سکتے ہیں ۔
طارق فض چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف سمیت لیگی قیادت نے ہمیشہ سیاسی راستہ نکالنے کی بات کی، وزیراعظم نے اپوزیشن بینچز پر جاکر بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سے مصافحہ کیا، وزیراعظم نے اپوزیشن کو کہا کہ ہمیں بات چیت کرنے کی ضرورت ہے، آگے بڑھنے کے لیے ساتھ چلنا ضروری ہے، یہ ایسا خیر سگالی کا جذبہ ہے جو ن لیگ اور حکومت نے دکھایا، اپوزیشن کیلئے واحد راستہ انتشار کی سیاست چھوڑ کر آگے بڑھنے کا ہے۔
وفاقی وزیر سے صحافی نے سوال کیا کہ کیا نواز شریف اڈیالہ جیل کا دروازہ کھلوا سکتے ہیں؟ جس پر طارق فضل چوہدری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جی بالکل نواز شریف اڈیالہ جیل کا دروازہ کھلوا سکتے ہیں، سیاسی قوتیں مل جل کر ہی آگے بڑھنے کی بات کرتی ہیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نواز شریف
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔