وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 2022 میں پاکستان نے تباہ کن سیلاب کا سامنا کیا، سیلاب میں 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے، تاہم  پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پالیسی وضع کرلی ہے۔

آذربائیجان میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے 17ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عالمی منظرنامے میں ٹیکنالوجی میں تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں، علاقائی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ٹیکنالوجی کی ترقی ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کے صدر سے ملاقات، دو طرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

وزیراعظم نے کہا کہ بدلتے ہوئے باہمی انحصار اور علمی وسعت کا نیا دور شروع ہو رہا ہے، ترقی کے عمل میں ای سی او رکن ممالک کے ساتھ اجتماعی کاوشوں میں شریک ہونے پر فخر ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ 2022 میں پاکستان نے تباہ کن سیلاب کا سامنا کیا، جس میں 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے، املاک کو نقصان پہنچا، پگھلتے گلیشیئرز، شدید گرمی اور تباہ کن سیلاب جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جب کہ فلش فلڈز بھی دل دہلا دینے والی تباہی مچاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے، اور ای سی او کے رکن ممالک کو بھی ان چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک پالیسی وضع کر لی ہے۔

وزیراعظم نے ایران پر اسرائیل کے حالیہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے ایرانی شہریوں کے لیے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں بلا روک ٹوک فلسطینیوں کو بھوکا مار رہا ہے، غزہ کو مکمل تباہی کا سامنا ہے، اور ایسا لگتا ہے جیسے وہاں زندگی کا وجود ہی ختم ہوچکا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل معیشت کی رفتار تیز کریں، وزیراعظم شہباز شریف کا اعلیٰ سطح اجلاس میں حکم

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے پہلگام میں ہونے والے افسوسناک واقعے کے بعد پاکستان پر حملہ کر کے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالا۔ پاک فوج نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔ پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی لائف لائن ہے، اس حوالے سے بھارتی اقدام جارحیت کے مترادف ہوگا،عالمی ثالثی عدالت نے بھی بھارت کے ان اقدامات کو مسترد کر دیا ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر الہام علییف کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم نے 17ویں ای سی او سربراہی اجلاس کی مثالی میزبانی پر آذربائیجان کے صدر کو مبارکباد دی۔

وزیراعظم نے 27 سے 29 مئی 2025 کو آذربائیجان کے شہر لاچین کے حالیہ دورے کے دوران پاکستانی وفد کی شاندار مہمان نوازی پر صدر علییف اور آذربائیجان کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران پاکستان کو آذربائیجان کی جانب سے دی جانے والی مستقل حمایت پر صدر الہام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھی مشکل وقت میں آذربائیجان کی مسلسل حمایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کو عالمی عدالت میں سبکی کا سامنا کرنا پڑا، سندھ طاس معاہدے سے نکل نہیں سکتا، وزیراعظم شہباز شریف

دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ سرمایہ کاری کے امکانات پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے اقتصادی شراکت داری، بالخصوص آذربائیجان کی پاکستان میں سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان حالیہ بات چیت باہمی تعلقات کی مزید مضبوطی میں معاون ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے صدر الہام کو جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت کا اعادہ بھی کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news آذربائیجان ای سی او سربراہی اجلاس شہباز شریف وزیراعظم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ای سی او سربراہی اجلاس شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف آذربائیجان کے پاکستان نے نے کہا کہ کا سامنا انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ