انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا رجحان جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
کراچی:
انٹربینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا رجحان جاری ہے تاہم اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور قدر مستحکم رہی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ملٹی لیٹرل اور تجارتی قرض حاصل ہونے کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے کے باوجود انٹربینک مارکیٹ میں درآمدی نوعیت کی طلب بڑھنے کی وجہ سے ایک روزہ وقفے کے بعد جمعہ کو ڈالر کی قدر میں دوبارہ اضافے کا رحجان غالب رہا۔
انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران اچھے فنڈامینٹلز کی وجہ سے ڈالر کی قدر ایک موقع 11پیسے کی کمی سے 283روپے 75پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی لیکن امریکی جاب ڈیٹا بہتر ہونے سے خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے، مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ، افراط زر کی شرح بتدریج بڑھنے کے خدشات اور درآمدی شعبوں کی جانب سے زرمبادلہ کی طلب بڑھنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 10پیسے کے اضافے سے 283روپے 96پیسے کی سطح پر بند ہوئی تاہم اس کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 286روپے 40پیسے کی سطح پر مستحکم رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مارکیٹ میں ڈالر کی قدر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔