علیمہ خان کی گرفتاری ایک مرتبہ پھر ٹل گئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
راولپنڈی:
پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی گرفتاری ایک مرتبہ پھر ٹل گئی۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت راولپنڈی کی جانب سے جاری کیے گئے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل اڈیالہ جیل کے قریب کر لی گئی۔
ڈی ایس پی اظہر شاہ نے پولیس ٹیم کے ہمراہ علیمہ خان کے وارنٹ گرفتاری پر باقاعدہ تعمیل کروا لی۔ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے قریب وارنٹ پر دستخط کیے جس کے بعد گرفتاری مؤخر ہوگئی۔
عدالت کے احکامات کے مطابق علیمہ خان کے وارنٹ پر دستخط کروا کر کارروائی مکمل کر لی گئی ہے، تاہم فی الحال گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔
واضح رہے کہ عدم حاضری پر اے ٹی سی راولپنڈی نے علیمہ خان کے خلاف ساتویں مرتبہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ علیمہ خان پر تھانہ صادق آباد میں نومبر 2023 کے احتجاج کا مقدمہ درج ہے۔
علیمہ خان کی گرفتاری یا وارنٹ کی تعمیل کروانے کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔