Express News:
2026-06-03@02:01:53 GMT

کورم کا مسئلہ کیوں نہیں ہوگا؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT

روزنامہ ایکسپریس کے مطابق سینیٹ اجلاس میں کورم کی نشان دہی پر مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ برہم ہو گئے اور سیدل خان نے پی ٹی آئی کے سینیٹر کی نشان دہی پر کہا کہ ’’کچھ لوگوں کو ایوان چلتا اچھا نہیں لگتا، کیا آپ صرف اس کام کے لیے اپنے علاقے سے ایوان میں آئے ہیں؟‘‘ کیا کورم کی نشان دہی کو سینیٹر کا جرم سمجھا گیا، کیونکہ کورم واقعی پورا نہیں تھا جس پر ڈپٹی چیئرمین کے حکم پر پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجائی گئیں جس پر ایوان سے باہر موجود بعض وزرا اور سینیٹر ایوان میں آئے تو کورم پورا ہوا، جس کے بعد کارروائی کچھ دیر چلی اور بعد میں اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

ایوان سے باہر وزیر اور سینیٹر اگر پہلے ہی ایوان میں موجود ہوتے تو کورم کی نشان دہی نہ ہوتی اور بغیرکورم اجلاس جاری رہتا۔ کورم کی نشان دہی سینیٹروں کا فرض تو بنتا ہی ہے مگر اس سے زیادہ ذمے داری ایوان میں اجلاس کی صدارت کرنے والے چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین اور دونوں کے نہ ہونے پر متعلقہ پریزائیڈنگ افسر کی بنتی ہے کہ وہ بڑے ایوان میں چند سینیٹر دیکھ کر خود کی کارروائی روک دیں اورکورم پورا کرانے کے لیے گھنٹیاں بجوا کر سینیٹروں اور وزیروں کو ایوان میں طلب کریں اور ایوان سے باہر رہنے والوں کی سرزنش کریں کہ کیا وہ ایوان سے غیر حاضر رہنے کے لیے سینیٹر منتخب ہوئے تھے کہ وہ اپنے علاقوں سے سینیٹ اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آتے ہیں اور ایوان میں آ کر بیٹھنے کے بجائے ایوان سے باہرکیوں مصروف ہوتے ہیں۔

کورم کی جائز نشان دہی کرنے والے سینیٹر پر برہم ہونے کے  بجائے ان کی ستائش کی جانی چاہیے تھی کہ انھوں نے کورم کی نشان دہی کرکے قانونی ذمے داری پوری کی، کوئی غلط کام نہیں کیا، اگر کابینہ کی فوج میں موجود وزرا کی پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت لازمی کر لیں تب بھی کورم پورا ہو سکتا ہے۔بعض وزیروں نے تو اپنا اصول بنایا ہوا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو بالکل اہمیت نہیں دیتے۔ بعض وفاقی وزرا اور وزیر اعظم کبھی کبھی قومی اسمبلی کے ایوان میں آجاتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں وزیروں کی تعداد اس دن زیادہ ہوتی ہے جب وزیر اعظم نے کسی ضروری کام سے ایوان میں آنا ہوتا ہے تو وہ باہر کی تمام مصروفیات چھوڑ کر وزیر اعظم کو دکھانے کے لیے ایوان میں آتے ہیں ورنہ ان کی طرف سے ان کے محکموں کے وزرائے مملکت یا پارلیمانی سیکریٹری ہی ایوان میں آ کر پوچھے ہوئے سوالات کے جواب دیتے ہیں اور یہی حال قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا ہے۔ سرکاری ارکان بھی زیادہ تر قومی اسمبلی کے ایوان میں نہیں آتے اور اگر آتے ہیں تو زیادہ تر خاموش رہتے ہیں اور بہت ہی کم بولتے ہیں یا ذاتی معاملے پر بولتے ہیں اور وزیر اعظم کی آمد پر انھیں چہرہ دکھانے اور ملنے کے لیے آتے ہیں اور تالیاں بجانے میں پیش پیش ضرور ہوتے ہیں۔

ارکان اسمبلی اور سینیٹروں کا ہجوم ایوانوں میں وزیر اعظم کی آمد پر اس لیے زیادہ ہوتا ہے کہ وزیر اعظم اکثر ارکان کو ملنے کا وقت نہیں دیتے اور وہ قومی اسمبلی کے ایوان میں کم آتے ہیں اور اسی ایوان سے منتخب ہونے کے بعد انھیں قومی اسمبلی غیر اہم لگنے لگتی ہے۔ حکومت کو اپنے مطلب کی قانون سازی کرنی ہو، بجٹ پاس کرانا ہو تو وزیر اعظم ایوان میںآتے ہیں اور صدر مملکت کے سال میں ایک بار پارلیمنٹ سے خطاب کے موقع پر وزیر اعظم، اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ ضرور موجود ہوتے ہیں۔ ضرورت پر حکومت اپنے ارکان اور سینیٹروں کو تاکید کرا کر ایوان میں بلواتی ہے۔

پی ٹی آئی کے وزیر اعظم نے تو خود اعتراف کیا تھا کہ ان کی حکومت میں تو دباؤ ڈال کر بجٹ پاس کرانا پڑتا تھا۔ سینیٹ بالاتر ادارہ ہے مگر نام کا کہ جہاں وزیر اعظم آنا ہی گوارا نہیں کرتے تو ان کے وزرا کیوں سینیٹ کو اہمیت دیں اور اسی لیے سینیٹ میں وزرا بھی برائے نام ہی آتے ہیں۔پاکستانی پارلیمنٹ قومی اسمبلی اور سینیٹ پر مشتمل ہے اور سینیٹ بالا ادارہ کہلاتا ہے ۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ایک سال تک سینیٹ کے اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی اور تنقید کے بعد وہ سینیٹ کے اجلاس میں گئے تھے۔ سینیٹ کی بالاتری صرف یہ ہے کہ صدر مملکت کے ملک سے باہر جانے یا فوت ہو جانے پر چیئرمین سینیٹ آئینی طور پر ملک کا قائم مقام صدر بن جاتا ہے اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی صدارت بھی چیئرمین سینیٹ کے بجائے قومی اسمبلی کا اسپیکر کرتا ہے جب کہ صدر مملکت کی ملک سے باہر جانے کے بعد اگر چیئرمین سینیٹ بھی ملک سے باہر ہو تو قومی اسمبلی کا اسپیکر قائم مقام صدر بن سکتا ہے۔

الزام لگایا جاتا ہے کہ سینیٹ میں سینیٹر بننے کے لیے ارکان اسمبلی کو رشوت دے کر ان کے ووٹ خریدے جاتے ہیں اور پارٹی ہدایت پر ووٹ نہیں دیتے۔سیاسی پارٹیاں بھی اتنی مجبور ہو جاتی ہیں کہ وہ اپنی ہدایت کے برعکس ووٹ نہ دینے والے سینیٹروں کے خلاف کارروائی کرنے کے  بجائے خاموش ہو جاتی ہیں جس کی مثال پی ٹی آئی حکومت میں (ن) لیگ کے وہ 8 سینیٹر تھے جنھوں نے پارٹی کی ہدایت پر ووٹ نہیں دیا تھا اور ان کی نشان دہی بھی کرلی گئی تھی۔

سینیٹ کیا بالاتر ہے جو حکومتی اہم فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتی ہے نہ قومی بجٹ کی منظوری میں اس کا کوئی کردار ہوتا ہے۔ یہ ایوان بالا کیا صرف تجاویز اور سفارشات کے لیے رہ گیا ہے اور قومی خزانے پر بوجھ ہے جس کے اپنے سینیٹر بھی اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے تو وہاں کورم کا مسئلہ کیوں نہیں ہوگا؟ پارلیمنٹ میں کورم نصف سے زیادہ ہونا چاہیے یہاں تو معمولی سینیٹروں کی تعداد بھی دستیاب نہیں ہوتی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کورم کی نشان دہی قومی اسمبلی کے چیئرمین سینیٹ ایوان سے باہر اور سینیٹر اور سینیٹ ایوان میں اجلاس میں میں شرکت ہیں اور آتے ہیں کے لیے کے بعد

پڑھیں:

سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان

(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال

سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔

مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔

 بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف