صدر ٹرمپ کی بڑی کامیابی؛ ایوان نمائندگان نے بھی متنازع بل منظور کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
امریکی ایوانِ نمائندگان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کا پہلا بڑا قانون منظور کرلیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وسیع تر داخلی پالیسی سے متعلق قانونی بل سینیٹ سے پہلے ہی صرف ایک ووٹ کے فرق سے منظور ہوچکا ہے۔
اب اس بل پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط ہونا باقی ہیں جس کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔
اس بل میں ٹیکسوں میں کمی، پینٹاگون (وزارت دفاع) اور بارڈر سیکیورٹی کے لیے فنڈنگ میں اضافہ اور فلاحی طبی پروگراموں میں دہائیوں کی سب سے بڑی کٹوتیاں کرنا شامل ہیں۔
یہ بل ٹرمپ کے انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں خصوصاً امیگریشن، دفاع اور ٹیکس اصلاحات کی عکاس ہے۔
ریپبلکن پارٹی میں اس بل پر سخت اختلافات پائے جاتے تھے۔ اس لیے دو حکومتی ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیئے۔
سخت گیر نظریات رکھنے والے ارکان نے اس بل سے ملک کے اربوں ڈالر کے خسارے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
اسی طرح اعتدال پسند ارکان نے طبی سہولیات کے لیے دی جانے والی سبسڈیز میں تاریخی کٹوتیوں پر اعتراض کیا تھا۔
تاہم اسپیکر مائیک جانسن اور سینیٹ لیڈر جان تھون نے پارٹی کے تقریباً تمام ارکان کو ٹرمپ کی حمایت میں ووٹ دینے پر آمادہ کر لیا۔
یہ بل ٹرمپ کے لیے ایک سیاسی فتح ہے جو نہ صرف ان کی قیادت کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے لیے واضح ایجنڈا بھی فراہم کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔