Jasarat News:
2026-07-24@08:51:42 GMT

بنگلا دیش اپنی اصل کی طرف لوٹ رہا ہے

اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تحریک پاکستان کے دوران برصغیر کے مسلمان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں اس طرح متحد و یک جان تھے اور اسلامی عصبیت اس قدر زوروں پر تھی کہ بہت سے زمینی حقائق پس منظر میں چلے گئے تھے اور کوئی ان پر غور کرنے کو بھی تیار نہ تھا۔ مثلاً 23 مارچ 1940ء کو لاہور کے نمائندہ اجتماع میں جو قرار داد منظور ہوئی اس میں دو اسلامی ریاستوں کے قیام کی گنجائش موجود تھی۔ حالات کا تقاضا بھی یہی تھا کہ اس پر غور کیا جاتا لیکن اسے نظر انداز کردیا گیا اور مشرقی و مغربی مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک ہی پاکستان بنانے پر اصرار کیا گیا۔ چنانچہ ایک پاکستان بن تو گیا لیکن تادیر قائم نہ رہ سکا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ابتدا ہی میں کہہ دیا تھا کہ صرف اور صرف اسلام ہی ایک ایسا رشتہ ہے جو مشرقی اور جنوبی اور پاکستان کو متحد رکھ سکتا ہے۔ جونہی یہ رشتہ کمزور ہوا، دونوں حصوں کو یکجا رکھنا دشوار ہوجائے گا۔ وہی ہوا جس کا اندیشہ سید مودودی نے ظاہر کیا تھا۔ مشرقی پاکستان میں موجود سیکولر اور لبرل عناصر نے اسلام کے رشتے کو کمزور تر کرنے کی پوری کوشش کی اور اس کے مقابلے میں تسلی، لسانی اور علاقائی عصبیتوں کو فروغ دیا گیا۔ قائداعظم ڈھاکا میں یہ اعلان کر آئے تھے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو اور صرف اردو ہوگی اس میں شعبہ نہیں کہ اردو نے تحریک پاکستان کے دوران مسلمانوں کو متحد کرنے میں بنیادی کردارا دا کیا تھا لیکن اب حالات کا تقاضا کچھ اور تھا پورے مشرقی پاکستان کی زبان بنگلا تھی جو اپنے مضبوط ثقافتی پس منظر کے سبب عوام میں بہت محبوب تھی اور بنگالی اسے بولتے ہوئے فخر محسوس کرتے تھے۔ حالات اس بات کے متقاضی تھے کہ اردو کے ساتھ بنگلا کو بھی پاکستان کی قومی زبان قرار دیا جاتا تا کہ پاکستان کے دونوں حصوں میں لسانی توازن قائم رہتا اور کوئی بدمزگی پیدا نہ ہوتی۔ یہ کام جنرل ایوب خان کے زمانے میں ہوا لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی اور لسانی عصبیت کا زہر چاروں طرف پھیل چکا تھا۔
جنرل ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کیا تو مشرقی پاکستان عوام کے لیے یہ خاص طور پر نہایت افسوسناک واقعہ ہے۔ وہ مزاجاً جمہوریت پسند تھے اور جنرل ایوب خان کی فوجی آمریت نے انہیں یہ احساس دلایا تھا کہ مغربی پاکستان ان پر براہ راست حکمرانی کررہا ہے اور فوجی حکمران انہیں اپنا محکوم سمجھتے ہیں۔ اسی زمانے میں شیخ مجیب الرحمن ایک قومی لیڈر کی حیثیت سے اُبھر کر سامنے آئے۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کی آزادی و خود مختاری کے لیے مشہورِ زمانہ چھے نکات پیش کیے۔ تاہم خرم مراد کہتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمن بنگالی عوام کو بار بار یہ یقین دلا رہے تھے کہ چھے نکات سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں، پاکستان بھی قائم رہے گا اور چھے نکات پر بھی عملدرآمد ہوگا۔ واضح رہے کہ اس وقت تک جنرل ایوب کا دھڑن تختہ ہوگیا تھا اور نئے فوجی آمر جنرل یحییٰ خان نے اقتدار پر قابض ہو کر ’’ایک آدمی ایک ووٹ‘‘ کی بنیاد پر عام انتخابات کا اعلان کردیا تھا۔ مشرقی پاکستان کا پلہ آبادی کے اعتبار سے بھاری تھا۔ چنانچہ 1970ء میں عام انتخابات ہوئے تو شیخ مجیب کی عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں قطعی اکثریت حاصل کرلی جبکہ مغربی پاکستان میں بھٹو کی پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت کی حیثیت سے اُبھر کر سامنے آئی۔ جمہوری اصولوں کا تقاضا تو یہی تھا کہ پاکستان کا اقتدار شیخ مجیب کے حوالے کردیا جاتا اور بھٹو اپوزیشن میں بیٹھتے لیکن وہ اس پر آمادہ نہ ہوئے ان کا مطالبہ تھا کہ شیخ مجیب انہیں بھی اقتدار میں شریک کریں۔ جب بات نہ بنی تو بھٹو نے ’’اِدھر ہم اُدھر تم‘‘ کا نعرہ لگادیا یعنی مغربی پاکستان میں ہم اقتدار سنبھالیں گے اور مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب اپنی حکومت قائم کرلیں۔ یہ کام سیاسی ڈائیلاگ کے ذریعے پُرامن انداز میں ہوسکتا تھا اور ملک تاریخ کی بدترین خونریزی اور سقوطِ مشرقی پاکستان کے المناک ترین سانحہ سے بچ سکتا تھا۔ لیکن حالات نے اس کا موقع ہی نہیں دیا۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بھارت ابتدا ہی سے بنگلا دیش کے قیام کی منصوبہ بندی میں شریک تھا۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے اس کا جو ڈیزائن تیار کیا تھا اس میں پرامن سیاسی ڈائیلاگ کی گنجائش ہی نہ تھی۔ وہ مشرقی پاکستان میں موجود پاکستانی فوج سے سرنڈر کروانا چاہتی تھی، دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کرنا چاہتی تھی اور اسلام و جمہوریت کے حامی عناصر کا صفایا کرکے بنگلا دیش کو اپنی ایک طفیلی ریاست بنانا چاہتی تھی۔ اس مقصد کے لیے ’’را‘‘ نے شیخ مجید کو پوری طرح اپنے شکنجے میں کس رکھا تھا۔ چنانچہ ’’را‘‘ نے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ یہ سارے کام کیے۔ پاکستان کی کم ظرف اور احمق قیادت نے بھی اپنی حرکتوں سے اس کی سہولت کاری کی۔ تاہم حالات کبھی کسی کے قابو میں نہیں رہتے اور قدرت ہر موڑ کا توڑ نکالتی رہتی ہے۔ بنگلا دیش کے قیام کے بعد شیخ مجیب کی حد سے بڑھی ہوئی بھارت نوازی کے خلاف شدید ری ایکشن بنگلا دیشی فوج نے ظاہر کیا۔ اس نے شیخ مجیب اور اس کی پوری فیملی کو قتل کردیا اور جنرل ضیا الرحمن نے ملک کا اقتدار سنبھال لیا۔ شیخ حسینہ واجد بیرون ملک تھیں اس لیے زندہ بچ گئیں۔
اس کے بعد کچھ عرصہ تک بنگلا دیش فوجی حکومتوں کی گرفت میں رہا۔ جنرل ارشاد نے جنرل ضیا الرحمن کا تختہ الٹ کر اپنی حکومت قائم کرلی لیکن سیاسی جماعتوں نے جن میں جماعت اسلامی بیگم خالدہ ضیا کی بی این پی اور شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ شامل تھی جنرل ارشاد کی حکومت کو زیادہ عرصہ چلنے نہ دیا اور اسے عام انتخابات کرانے پر مجبور کردیا۔ انتخابات ہوئے تو بیگم خالدہ ضیا کی بی این پی کو اکثریت حاصل ہوئی اس نے جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی اور نہایت کامیابی سے حکومت چلائی۔ جماعت اسلامی کے وزرا کی کارکردگی کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا۔ تاہم اگلے تاہم اگلے انتخابات میں لوگوں نے حسینہ واجد کو بھی ایک موقع دینا مناسب سمجھا۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اسی موقع کی تاک میں تھی اس نے فوراً حسینہ واجد کا گھیرائو کرلیا۔ اسے بتایا گیا کہ اگر وہ دائمی اقتدار چاہتی ہے تو اسے باقی تمام معاملات بھارت کے سپرد کرنا ہوں گے۔ حسینہ واجد کو اقتدار کے سوا اور کیا چاہیے تھا وہ فوراً اس پر آمادہ ہوگئی۔ چنانچہ پورے عدالتی اور بیورو کریسی نظام پر ’’را‘‘ نے اپنی گرفت مضبوط کرلی اس نے اسلام، جمہوریت اور قانون کی عملداری کی حمایت کرنے والے عناصر کا صفایا کرنے کے لیے نام نہاد وار کرائم ٹریبونل کے قیام کا ڈراما رچایا جس کے تحت بنگلا دیش کے قیام کی تحریک کے دوران اسلام اور پاکستان سے محبت کرنے والوں کو ٹھکانے لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جماعت اسلامی اس میں سرفہرست تھی۔ اس کے تمام قائدین کو کسی ثبوت اور شہادت کے بغیر وار کرائم ٹریبونل کی الٹی چھری سے ذبح کردیا گیا، پوری دنیا میں اس ٹریبونل کا تمسخر اڑایا گیا۔ برطانوی عدالت عظمیٰ نے اسے انصاف کی نسل کشی قرار دیا لیکن بھارت حسینہ واجد کی آڑ میں جو کرنا چاہتا تھا کر گزرا تھا۔
حسینہ واجد کو انتخابات میں بار بار بتایا جاتا رہا اس کا دور حکومت بنگلا دیشی عوام کے لیے ایک ایسا ڈرائونا خواب بن گیا جس کی تعبیر نہایت خوفناک نظر آرہی تھی۔ آخر قدرت نے گزشتہ سال اگست میں طلبہ کے ذریعے اس بھیانک کھیل کا پانسہ پلٹ دیا۔ بے شک اس جدوجہد میں طلبہ کو اپنا نہایت قیمتی خون دینا پرا اس کے نتیجے میں حسینہ واجد کی شرمناک آمریت سے نجات مل گئی۔ لوگوں نے آزاد ہو کر اس آمریت کے تمام آثار مٹا دیے۔ عدالتیں آزاد ہوگئیں اور حق و انصاف کے مطابق فیصلے کرنے لگیں۔ بنگلا دیشی عدالت عظمیٰ نے جماعت اسلامی پر پابندی کالعدم قرار دے دی۔ سیاسی جماعت کی حیثیت سے اس کی رجسٹریشن بحال کردی اور اسے عام انتخابات میں حصہ لینے کا اہل قرار دے دیا۔ عدالت عظمیٰ نے جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اے ٹی ایم اظہر الاسلام کو بھی باعزت بری کردیا جبکہ نام نہاد وار کرائم ٹریبونل نے انہیں سزائے موت سنائی تھی۔ جماعت اسلامی کی ان کامیابیوں کے پیچھے اس کی عظیم استقامت اور شہادتوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ بلاشبہ جماعت اسلامی بنگلا دیش کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے اسلام، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے سب سے زیادہ قربانی دی ہے۔ یقینا وہ اس بات کی مستحق ہے کہ بنگلا دیشی عوام اس پر اعتماد کریں اور انتخابات کے ذریعے ملک کے معاملات اس کے ہاتھ میں دیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بنگلا دیش اپنی اصل کی طرف پلٹ رہا ہے پاکستان اس کے خون میں شامل ہے یہی وجہ ہے کہ سفارتی سطح پر دونوں ملکوں کے تعلقات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تجارت میں اضافہ ہورہا ہے دو طرفہ کمیشن بن رہے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ دونوں ملک مستقبل قریب میں ایک ڈھیلی ڈھالی فیڈریشن سے وابستہ ہو کر تحریک پاکستان کی لاج رکھ لیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مشرقی پاکستان میں عام انتخابات جماعت اسلامی پاکستان کی پاکستان کے بنگلا دیشی حسینہ واجد جنرل ایوب بنگلا دیش کے قیام رہا ہے کے لیے اور اس تھا کہ کو بھی

پڑھیں:

ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری

مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔

اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔

میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔

اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔

میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔

ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔

بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔

اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔

اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟

یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔

اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔

ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔

وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • زندگی کا مقصد
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی