data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانی پاکستان کی لائف لائن ہے، اسے ہتھیار بنانا کسی صورت قابل برداشت نہیں ہوگا۔

آذربائیجان کے تاریخی شہر خانکندی میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے سربراہ اجلاس کے دوران وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایک بار پھر بھارت کو واضح اور دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر نئی دہلی نے پانی کو سیاسی یا جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی تو یہ قدم پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت سمجھا جائے گا، جس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کی ضمانت ہے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی بین الاقوامی ضوابط اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ شہباز شریف نے نشاندہی کی کہ عالمی ثالثی عدالت پہلے ہی بھارت کے کچھ آبی منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کرچکی ہے، جس کے باوجود نئی دہلی کی ہٹ دھرمی خطرناک رخ اختیار کر رہی ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان پانی کی راہ میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کرے گا کیونکہ یہ ملک کی سلامتی، زراعت، صنعت اور بقا سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا یہ رویہ محض ایک پڑوسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ پورے خطے کے استحکام کے خلاف کھلی چال ہے۔

اپنے خطاب میں شہباز شریف نے ای سی او اجلاس کی میزبانی پر آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خانکندی جیسے تاریخی شہر میں ایسی اعلیٰ سطحی میٹنگ کا انعقاد ایک امید افزا قدم ہے۔ انہوں نے تنظیم کے سابق چیئرمین قازقستان کے صدر قاسم جومارت کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ اس قسم کا علاقائی تعاون تیزی سے بدلتے عالمی تناظر میں نہایت ضروری ہے۔

وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلیوں کو دنیا بھر کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان 10ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ ماحولیاتی تباہ کاریوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 کے بدترین سیلاب نے ملک میں تباہی کی نئی مثال قائم کی، جس کے نتیجے میں 3کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے، ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس میں بحالی، تحفظ، توانائی کی پائیدار حکمت عملی اور جدید منصوبہ بندی شامل ہے۔ وزیراعظم نے ایک بین الاقوامی کاربن مارکیٹ کے قیام، ماحولیاتی فنانسنگ کی فراہمی اور ریزیلینٹ انفرا اسٹرکچر کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ایران پر اسرائیلی حملے پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف عالمی قوانین کے منافی ہیں بلکہ پورے خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور ایسی جارحیت کی کھلی مذمت کرتا ہے۔

مقبوضہ کشمیر اور غزہ کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں معصوم عوام پر ہونے والا ظلم ناقابل قبول ہے۔ پاکستان ہر مظلوم قوم کے ساتھ ہے، چاہے وہ غزہ کے معصوم فلسطینی ہوں یا کشمیر کے مظلوم کشمیری۔

اپنے خطاب کے اختتام پر شہباز شریف نے لاہور کو 2027 کے لیے ای سی او کا سیاحتی دارالحکومت قرار دیے جانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لاہور پاکستان کا ثقافتی دل ہے اور ای سی او ممالک کے مہمانوں کے لیے اپنے حسن، تاریخ اور مہمان نوازی سے ہمیشہ یادگار تجربہ بنائے گا۔

انہوں نے ای سی او رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی اجتماعی توانائیاں مستقبل کی تعمیر، خطے کی خوشحالی، پائیدار ترقی اور عوامی فلاح پر مرکوز رکھیں تاکہ یہ خطہ عالمی سطح پر معاشی اور ماحولیاتی چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہا کہ پاکستان شہباز شریف نے کرتے ہوئے نے کہا کہ ہوئے کہا انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

 وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری