سونا مزید سستا ہوگیا، عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں بڑی کمی
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک بار پھر سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں اور مقامی مارکیٹوں دونوں کو حیران کر دیا ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونا اچانک 140 ڈالر کی بڑی کمی سے 3 ہزار 940 ڈالر پر جا پہنچا، جو حالیہ مہینوں کی سب سے نمایاں گراوٹ تصور کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی ڈالر کی مضبوطی، اسٹاک مارکیٹس میں استحکام اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی جیسے عوامل نے سونے کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا ہے۔
پاکستانی مارکیٹ میں بھی اس گراوٹ کے اثرات فوری طور پر دیکھے گئے، جہاں سونے کی قیمت میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
مقامی سطح پر کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر شہروں کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونا 14 ہزار روپے کمی کے ساتھ 4 لاکھ 16 ہزار 362 روپے پر آگیا اور اسی طرح فی 10 گرام سونا بھی 12 ہزار 3 روپے سستا ہو کر 3 لاکھ 56 ہزار 963 روپے کی سطح تک گر گیا۔
کاروباری ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں یہ تیزی سے آنے والی گراوٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار فی الحال خطرے سے گریز کر رہے ہیں اور اپنی سرمایہ کاری اسٹاک اور کرنسی مارکیٹس کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان آئندہ دنوں تک برقرار رہا تو مقامی منڈی میں سونے کے نرخ مزید نیچے جا سکتے ہیں، تاہم کچھ تجزیہ کار محتاط رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں کہ عالمی سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث مستقبل میں قیمتوں کا درست اندازہ لگانا آسان نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔