Jang News:
2026-06-02@22:34:08 GMT
جوڈیشل کمیشن نے ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کی تقرری سے وزیراعظم کو آگاہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
جوڈیشل کمیشن نے ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کی تقرری سے وزیراعظم کو آگاہ کر دیا۔
سیکریٹری جوڈیشل کمیشن نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کو مراسلہ لکھ دیا۔
مراسلہ کے مطابق جوڈیشل کمیشن کی اکثریت نے جسٹس عتیق شاہ کو چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اور جسٹس سرفراز ڈوگر کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ مقرر کیا ہے۔
مراسلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس روزی خان کو جوڈیشل کمیشن کی اکثریت سے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور جسٹس جنید غفار کو چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ مقرر کیا گیا۔
مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعظم آرٹیکل 175 اے کی ذیلی شق 8 کے تحت ججز کے تقرر کی کارروائی مکمل کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔