چین؛ زرمبادلہ کے ذخائر 10 سالہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
چین کے زرمبادلہ (فاریکس) کے ذخائر میں مسلسل چھٹے ماہ اضافہ ہوا ہے اور جون کے اختتام پر یہ ذخائر تقریباً 3.32 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے.
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے زرمبادلہ کے ذخائر گزشتہ دس برس میں سب سے بلند سطح پر ہے یہ بات پیر کو جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار میں سامنے آئی۔
چینی ادارے اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن آف فارن ایکسچینج (SAFE) کے مطابق جون کے مہینے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں 0.
ماہرین کے مطابق، اس اضافے کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی دیگر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں مسلسل گراوٹ اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں اثاثہ جات کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
امریکا کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی، ٹیرف پالیسی کی غیر یقینی صورتحال، ممکنہ سود کی شرح میں کمی اور جیو پولیٹیکل تناؤ کے پیشِ نظر چین کے مرکزی بینک نے مسلسل آٹھویں مہینے بھی اپنے سونے کے ذخائر میں اضافہ کیا۔
جون کے اختتام پر چین کے سونے کے ذخائر 73.90 ملین ٹرائے اونس تک پہنچ گئے، جو مئی کے اختتام پر 73.83 ملین اونس تھے۔
سونے کی مالیاتی قدر بھی معمولی اضافے کے ساتھ 242.93 ارب ڈالر تک جا پہنچی، جو مئی میں 241.99 ارب ڈالر تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر انڈیکس میں کمی اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں بہتری کے ساتھ ساتھ چین کی مستحکم معاشی ترقی نے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زرمبادلہ کے ذخائر چین کے
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔