پراپرٹی ٹراسفر فیس میں اضافے کے معاملے پرسی ڈی اے اور اسلام آباد چیمبر کی مشترکہ کمیٹی قائم ،ٹی آر اوز سب نیوز پر
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
پراپرٹی ٹراسفر فیس میں اضافے کے معاملے پرسی ڈی اے اور اسلام آباد چیمبر کی مشترکہ کمیٹی قائم ،ٹی آر اوز سب نیوز پر WhatsAppFacebookTwitter 0 7 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)سی ڈی اے نے پراپرٹی ٹراسفر فیس میں اضافے پربزنس کمیونٹی کے تحفظات دور کرنے کیلئے آئی سی سی آئی کیساتھ جوائنٹ کمیٹی قائم کر دی ، کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے
ممبر فنانس سی ڈی اے طاہر نعیم اختر کمیٹی کے کنونیئر ہونگے ، کمیٹی میں صدر آئی سی سی آئی ناصر منصور قریشی ،ڈی جی لا سی ڈی اے ،ڈی جی بلڈنگ کنٹرول سی ڈی اے ، سنیئر نائب صدر آئی سی سی آئی ، نائب صدر آئی سی سی آئی و دیگر شامل ہونگے
کمیٹی وفاقی دارالحکومت میں پراپرٹی ٹراسفر فیس میں اضافے کا جائزہ لے گی اور بزنس کمیٹی کے تحفظات کو سامنے رکھتے ہوئے سفارشات مرتب کرے گی جبکہ ریونیو کے متبادل ذرائع کا بھی جائزہ لیا جائے گا ، کمیٹی اپنی سفارشات 5روز میں چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کو پیش کرے گی ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس ، سیکٹرز ڈویلپمنٹ کے کام کو مزید تیز کرنے کی ہدایت چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس ، سیکٹرز ڈویلپمنٹ کے کام کو مزید تیز کرنے کی ہدایت ڈی جی پی ایچ اے احمد حسن رانجھا کا صدر مال روڈ جی پی او چوک راولپنڈی کا خصوصی دورہ، بیوٹیفیکیشن کے حوالے سے... حکومت کا ملک بھر میں پنکھوں کو کم بجلی سے چلنے والوں پنکھوں سے تبدیل کرنیکا فیصلہ وفاقی حکومت کا رواں مالی سال بھی کفایت شعاری کے اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ سینیٹ میں خیبرپختونخوا کی نشستوں کیلئے امیدواروں کی فہرست جاری پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز کا مخصوص نشستوں کے حصول کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پراپرٹی ٹراسفر فیس میں اضافے اسلام آباد سب نیوز
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔