مخصوص نشستوں پر بحال اراکین کی تنخواہوں پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
مخصوص نشستوں پر بحال اراکین کی تنخواہوں پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ WhatsAppFacebookTwitter 0 7 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں پر بحال ہونے والے قومی اسمبلی اراکین کی تنخواہوں کے معاملہ پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا، معاملہ پر فیصلہ قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کرے گی، قومی اسمبلی کے مالی معاملات پر فیصلہ سازی اسپیکر کی صدارت میں فنانس کمیٹی کرتی ہے، مخصوص نشستوں پر بحال ہونے والے اراکین کو دوبارہ حلف کی ضرورت نہیں۔
مخصوص نشستوں پر بحال ہونے والے اراکین قومی اسمبلی کی تنخواہوں کا معاملہ تاحال حل طلب ہے، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اراکین کی تنخواہوں پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، معاملے پر فیصلہ قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کرے گی۔اسمبلی سیکرٹریٹ کا کہنا ہے کہ مالی معاملات پر فیصلہ سازی اسپیکر قومی اسمبلی کی صدارت میں فنانس کمیٹی کرتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین کا نوٹیفکیشن موصول ہوچکا ہے تاہم تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے فنانس کمیٹی کی منظوری درکار ہے۔اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق مخصوص نشستوں پر بحال ہونے والے اراکین کو دوبارہ حلف اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبردریائے چناب، جہلم، راوی اور ملحقہ ندی نالوں میں سیلاب کی وارننگ جاری دریائے چناب، جہلم، راوی اور ملحقہ ندی نالوں میں سیلاب کی وارننگ جاری بھارت کی جانب سے چین کے مذہبی معاملے میں مداخلت، چینی سفیر کا سخت ردِعمل آگیا خیبرپختونخوا حکومت گرانے کی بازگشت، امیر مقام کا بڑا بیان سامنے آگیا خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر حلف برداری کا معاملہ سنگین، اپوزیشن نے قانونی مشاورت شروع کردی بھارت آپریشن سندور کے دوران اپنے مقرر کردہ فوجی اہداف حاصل کرنےمیں ناکام رہا، فیلڈ مارشل مخصوص نشستوں پر بحال ارکان کو معطلی کے دورانیہ کی تنخواہیں دینے کا فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مخصوص نشستوں پر بحال ہونے والے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کوئی فیصلہ نہیں ہوا اراکین کی تنخواہوں ہونے والے اراکین قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی پر فیصلہ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔