سعودی عرب اور پاکستان کے مابین اقتصادی تعاون کے نئے دور کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
سعودی عرب اور پاکستان نے تاریخی شراکت داری کے تسلسل میں اقتصادی تعاون کے ایک نئے فریم ورک کا باضابطہ آغاز کردیا ہے۔
یہ اعلان ریاض میں وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف اور سعودی ولی عہد ووزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات کے بعد مشترکہ بیان میں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:
سعودی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق، دونوں ممالک نے تعلقات کو باہمی مفاد، تجارتی تبادلوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کی بنیاد پر مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
نئے فریم ورک کے تحت توانائی، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، خوراک، تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں میں اشتراک بڑھانے پر اتفاق ہوا۔
دونوں ممالک متعدد منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں بجلی کے تبادلے اور توانائی کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط شامل ہیں۔
مزید پڑھیں:
سعودی عرب اور پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ شراکت داری کو دیرپا بنیادوں پر استوار کیا جائے تاکہ دونوں برادر ممالک اور ان کی عوام کے مشترکہ مفادات کو بہتر طور پر فروغ دیا جا سکے۔
بیان میں اس امید کا اظہار بھی کیا گیا کہ جلد ہی سعودی پاک سپریم کوآرڈی نیشن کونسل کا اجلاس منعقد ہوگا، جس میں مشترکہ منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ اور مزید تعاون کے اقدامات طے کیے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انفارمیشن ٹیکنالوجی بجلی پاکستان توانائی سپریم کوآرڈی نیشن کونسل سعودی عرب سعودی وزارت خارجہ فریم ورک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انفارمیشن ٹیکنالوجی بجلی پاکستان توانائی سپریم کوآرڈی نیشن کونسل
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔