پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری، متعدد شاہراہوں کی بحالی مکمل
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
لاہور:
وزیر اعلیٰ پنجاب کے اعلان کردہ ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے۔
محکمہ مواصلات نے صوبے بھر میں متعدد شاہراہوں کی بحالی کے منصوبے مکمل کر لیے ہیں۔ اس سلسلے میں صوبائی وزیر تعمیرات و مواصلات ملک صہیب احمد بھرتھ کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ کے افسران نے مختلف منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں لاہور، جہلم، خوشاب، پاکپتن، مظفرگڑھ، مری، اٹک، بہاولنگر اور ڈیرہ غازی خان کی شاہراہوں پر جاری اور مکمل منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
صوبائی وزیر ملک صہیب احمد بھرتھ نے بتایا کہ لاہور میں واہگہ بارڈر تا قائداعظم انٹرچینج 13 کلومیٹر طویل منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ پاکپتن میں 9 ارب روپے کی لاگت سے 360 کلومیٹر طویل متعدد شاہراہوں کو بحال کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 7.
اٹک میں 352 کلومیٹر طویل متعدد شاہراہوں کی بحالی مکمل ہو چکی ہے، بہاولنگر میں 227 کلومیٹر طویل سڑکوں کو از سر نو تعمیر کیا گیا ہے، جب کہ ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں 23 ارب روپے کی لاگت سے 913 کلومیٹر طویل شاہراہوں کی بحالی کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔
صوبائی وزیر ملک صہیب احمد بھرتھ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق صوبے میں تعمیر و ترقی کا مشن جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متعدد شاہراہوں کلومیٹر طویل تیزی سے جاری ہے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔