اسلام آباد میں شدید بارش اور ژالہ باری کے بعد سی ڈی اے کا ہنگامی آپریشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شدید بارش اور ژالہ باری کے بعد چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنر اسلام آباد اور ڈی جی سول ڈیفنس محمد علی رندھاوا کی ہدایت پر ہنگامی آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔
سی ڈی اے، ضلعی انتظامیہ اور ایم سی آئی کی مشترکہ ٹیمیں متحرک ہو گئی ہیں، جنہوں نے اہم شاہراہوں، نالیوں اور انڈرپاسز کی صفائی اور پانی کی نکاسی کا عمل بھاری مشینری کی مدد سے شروع کر دیا ہے۔ گرنے والے درختوں اور ملبے کو فوری طور پر اٹھایا جا رہا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی بحال رکھی جا سکے۔
مزید پڑھیں: جڑواں شہروں سمیت دیگر شہروں موسلادھار بارش، کئی مقامات پر تباہی، مزید بارشوں کی پیشگوئی
تمام کارروائیوں کی نگرانی چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنر اسلام آباد اور ڈی جی سول ڈیفنس محمد علی رندھاوا خود کر رہے ہیں۔ شہریوں نے فوری ردعمل اور بروقت اقدامات پر حکام اور اداروں کی کارکردگی کو سراہا ہے۔
انتظامیہ نے نشیبی علاقوں میں نکاسی آب کی مؤثر نگرانی کے لیے خصوصی سسٹم بھی فعال کر دیا ہے، جبکہ تمام متعلقہ محکموں کو ہنگامی بنیادوں پر بارش کے دوران اور بعد میں سڑکوں کی صفائی اور مرمت کا عمل جاری رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مون سون سیزن کے دوران شہریوں کی حفاظت اور سہولت اولین ترجیح ہے، اور تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
درخت سی ڈی اے سیوریج صفائی نالے وفاقی ترقیاتی ادارہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سی ڈی اے سیوریج صفائی نالے وفاقی ترقیاتی ادارہ اسلام آباد سی ڈی اے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔