صوبائی وزیر زراعت بارش کے بعد نکاسی آب کی صورت حال کا جائزہ لینے حب پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حب(نمائندہ خصوصی)صوبائی وزیر زراعت میر علی حسن زہری اپنے حلقہ انتخاب میں خصوصی ہدایت پر بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں مون سون بارشوں کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مونسپل کارپوریشن کے عملے کو مکمل طور پر متحرک کردیا ہے مونسپل کارپوریشن حب نصیب اللہ ترین کی زیر نگرانی میں حب شہر بھر کے مختلف علاقوں میں صفائی ستھرائی عمل جاری ہے۔چیف آفیسر چیف حب نصیب اللہ ترین ۔تفصیلات کے مطابق حب صوبائی وزیر زراعت میر علی حسن زہری اپنے حلقہ انتخاب میں خصوصی ہدایت پر بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں مون سون بارشوں کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مونسپل کارپوریشن کے عملے کو مکمل طور پر متحرک کردیا ہے مونسپل کارپوریشن حب نصیب الل? ترین کی زیر نگرانی میں حب شہر بھر کے مختلف علاقوں میں صفائی ستھرائی عمل جاری ہے صنعتی شہر حب میں مون سون کی بارشوں کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے شہر بھر صفائی ستھرائی کا عمل جاری ہے جبکہ دوسری جانب شہری آبادی کو نقصانات سے بچانے کے لئیے برساتی نالوں اور آبی گزر گاہوں کی صفائی شروع کردی گئی ہے میونسپل کارپوریشن حب کی جانب سے شہر کے وسط سے گزرنے والے برساتی نالے کی صفائی شروع کردی گء ہے بیروٹ نالے میں طغیانی کے باعث اکثر بانی آبادی میں داخل ہوجاتا ہے آبی گزر گاوں اور سیوریج کی صفائی کے بعد امید ظاہر کی جارہی ہے کہ اس مرتبہ بارشوں کے باعث عوامی تکالیف میں کمی ہوگی حب شہر کے عوامی حلقوں کی جانب سے صوبائی وزیر میر علی حسن زہری اور مونسپل کارپوریشن چیف آفیسر نصیب الل? ترین کی جانب سے حب شہر بھر میں صفائی ستھرائی کے اقدامات کی تعریف کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مونسپل کارپوریشن صفائی ستھرائی
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :