یو اے ای کا مخصوص قومیتوں کوتاحیات گولڈن ویزا؛ بھارتی میڈیا خبروں کی تردید
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے مخصوص قومیتوں کو عمر بھر کے لیے گولڈن ویزا دینے کے حوالے سے زیر گردش افواہوں کی تردید کی ہے۔
یو اے ای کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’وام‘ کے مطابق ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا گیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’نئی نامزدگی پر مبنی گولڈن ویزا اسکیم‘ کا آغاز کیا گیا ہے۔
گولڈن ویزا ایک طویل المدتی رہائشی ویزا ہے جو غیر ملکی باصلاحیت افراد کو متحدہ عرب امارات میں رہنے، کام کرنے یا تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے اور اس کے ساتھ متعدد خصوصی فوائد بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔
یو اے ای حکومت کے سرکاری پورٹل کے مطابق اس ویزا کے لیے سرمایہ کار، کاروباری افراد، سائنسدان، نمایاں طلبہ و فارغ التحصیل، انسانیت کے علمبردار اور فرنٹ لائن ہیروز اہل قرار دیے گئے ہیں۔
اس ہفتے بھارت کے متعدد میڈیا اداروں، بشمول پریس ٹرسٹ آف انڈیا اور دی ہندو، نے خبر دی تھی کہ یو اے ای حکومت نے ’نئی نامزدگی پر مبنی ویزا پالیسی‘ کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت بھارتی شہری صرف ایک لاکھ درہم کی فیس ادا کر کے عمر بھر کے لیے گولڈن ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
ٹائمز آف انڈیا نے اطلاع دی تھی کہ یہ نئی اسکیم آزمائشی مرحلے میں ہے اور فی الحال بھارت اور بنگلہ دیش کے درخواست گزار اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جب کہ ابتدائی 3 ماہ میں 5 ہزار سے زائد بھارتی درخواستوں کی توقع ہے، دبئی سے شائع ہونے والے روزنامے ’گلف نیوز‘ نے پیر کو رپورٹ کیا کہ بنگلہ دیشی شہری اگر شرائط پوری کریں تو وہ دور رہتے ہوئے گولڈن ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
تاہم وام کی رپورٹ کے مطابق ’شناخت، شہریت، کسٹمز اور پورٹ سیکیورٹی کی وفاقی اتھارٹی (آئی سی پی) نے ان افواہوں کی تردید کی ہے، جو کچھ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں اور ویب سائٹس پر گردش کر رہی ہیں کہ متحدہ عرب امارات مخصوص قومیتوں کو عمر بھر کا گولڈن ویزا دے رہا ہے۔
آئی سی پی نے واضح کیا کہ گولڈن ویزا کے لیے مخصوص زمروں، شرائط اور ضوابط کو سرکاری قوانین، قانون سازی اور وزارتی فیصلوں کے مطابق واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ ان اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، جو جھوٹی معلومات پھیلا کر ان افراد سے غیر قانونی طور پر رقم وصول کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو یو اے ای میں باعزت اور محفوظ زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں۔
وفاقی اتھارٹی نے ایسے افراد سے اپیل کی کہ جو یو اے ای میں وزٹ، رہائش یا سرمایہ کاری کے خواہش مند ہیں، وہ ان افواہوں اور جھوٹی خبروں پر توجہ نہ دیں جن کا مقصد صرف فوری منافع حاصل کرنا ہے۔
مزید یہ کہ ایسے افراد کسی بھی غیر مجاز فریق کو فیس یا ذاتی دستاویزات فراہم کرنے سے گریز کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گولڈن ویزا کے مطابق یو اے ای کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین