متحدہ عرب امارات کی بعض ممالک کے شہریوں کے لئے تاحیات گولڈن ویزا سے متعلق وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
ابو ظہبی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 جولائی2025ء) متحدہ عرب امارات کی وفاقی اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور پورٹ سکیورٹی ( آئی سی پی) نے بعض ممالک کے شہریوں کو تاحیات گولڈن ویزا دینے کے حوالے سے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا آؤٹ لیٹس اور ویب سائٹس کے ذریعے پھیلائی جانے والی افواہوں کی تردید کی ہے۔ آئی سی پی نے واضح کیا کہ گولڈن ویزا کے زمرے، شرائط اور ضوابط واضح طور پر سرکاری قوانین، قانون سازی اور وزارتی فیصلوں کے مطابق ہیں۔
دلچسپی رکھنے والے افراد اتھارٹی کی ویب سائٹ یا سمارٹ ایپلی کیشن پر سرکاری معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اماراتی خبر رساں ادارے وام کے مطابق اتھارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ گولڈن ویزا کی تمام درخواستوں کو خصوصی طور پر متحدہ عرب امارات میں سرکاری چینلز کے ذریعے ہینڈل کیا جاتا ہے اور یہ کہ کسی داخلی یا بیرونی مشاورتی ادارے کو درخواست کے عمل میں مجاز فریق کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔(جاری ہے)
اتھارٹی نے حال ہی میں کسی دوسرے ملک میں مقیم کنسلٹنسی آفس کی خبروں کا حوالہ دیا جن میں بتایا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے باہر سے تمام زمروں کے لئے تاحیات گولڈن ویزے کنسلٹنسی یا کمرشل اداروں کے ذریعے آسان شرائط کے تحت حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اتھارٹی نے درخواست دہندگان کے لئے ایک محفوظ اور شفاف ماحول فراہم کرنے، اور خصوصی طور پر سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی خدمات کو مسلسل بڑھانے کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور کہا ہے کہ ایسی غلط معلومات پھیلانے والے اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اتھارٹی نے ان تمام افراد پر زور دیا جو متحدہ عرب امارات کا دورہ کرنے، رہنے یا سرمایہ کاری کرنے کے خواہشمند ہیں، وہ غلط افواہوں اور غلط خبروں پر یقین نہ کریں ۔ انہیں کسی بھی قسم کی فیس ادا کرنے یا کسی بھی پارٹی کو ذاتی دستاویزات جمع کرانے سے گریز کرنا چاہیے جو یہ خدمات فراہم کرنے کا دعوی کرے۔اتھارٹی نے ہدایت کی کہ کسی بھی اقدام سے پہلے طریقہ کار کی درستگی کی تصدیق کے لئے ہمیشہ سرکاری ذرائع سے رجوع کریں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے متحدہ عرب امارات گولڈن ویزا اتھارٹی نے کے ذریعے کے لئے
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔