data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور(وقائع نگارخصوصی)امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے مالی سال 2023-24ء کی آڈٹ رپورٹ میں وفاقی وزارتوں اور ڈویڑنز میں سنگین مالی بے ضابطگیوں، قواعد کی خلاف ورزیوں اور سرکاری فنڈز کے غلط استعمال سے ہونے والے 1100ارب روپے کے نقصان پر گہری تشویش کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف کی گڈ گورننس کی اصل کارکردگی کا اندازہ اس رپورٹ سے بخوبی ہو جاتا ہے جس میں گندم کی درآمد پر 300 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی کی گئی ہے، ملک میں وافر مقدار میں گندم کی مو جودگی کے با وجود گندم کو درآمد سوچی سمجھی حکمت عملی تھی جس کا مقصد اشرافیہ کو نوازنا ہے۔ متعدد وزارتوں میں بجٹ کی منظوری کے بغیر اخراجات کئے گئے اور کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔پی سی بی میں غیر قانونی ادائیگیوں کا انکشاف لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کرپشن کی لعنت ختم کئے بغیر پائیدار ملک کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ممکن نہیں۔ ملکی بقا اور سالمیت کے لئے سب کا احتساب ضروری ہے۔ ملکی یکجہتی اور خوشحالی بھی احتساب سے مشروط ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے جاری کردہ کرپشن سروے کے مطابق پولیس کا محکمہ کرپشن میں پہلے، ٹھیکے دینے اور کنٹریکٹ کرنے کا شعبہ دوسرے، عدلیہ تیسرے، تعلیم چوتھے اور صحت کا محکمہ کرپشن میں پانچویں نمبر پر ہے۔ سرکاری محکموں میں شفافیت اور جوابدہی کے طریقہ کار کو نافذ کرنے اور مظبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے حکومتی سرگرمیوں، فیصلوں اور اخراجات سے متعلق معلومات تک عام شہریوں کی رسائی آسان بنائی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے سے رائج انسداد بدعنوانی کے قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہئے۔ انسداد بدعنوانی کے لئے ایسے موثر قوانین متعارف کروائے جائیں جو یکساں طور پر سرکاری اور نجی شعبوں کا احاطہ کرتے ہوں۔ بدعنوانی کی روک تھام کے لئے قانونی فریم ورک میں سخت سزائیں شامل کرنے کے علاوہ قانونی عمل موثر اور منصفانہ بنانے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ پاکستان میں کرپشن نے ام الخبائث کی شکل اختیار کر لی ہے اور زندگی کے ہر شعبہ میں بگاڑ اور خسارے کا ذریعہ بنی ہے، اسے قابو میں لائے بغیر نہ تو ملک چل ہے نہ جمہوریت پنپ سکتی ہے اور نہ ہی گورننس کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لئے

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتالیں غیر قانونی قرار؛ وفاقی آئینی عدالت کا حکم
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • گورنر سٹیٹ بنک کے بھائی آصف جاوید انتقال کر گئے
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان