جعلی میڈیا پلیٹ فارمز کا مقابلہ کرنے کے لیے فعال پرنٹ میڈیا کا فروغ ناگزیر ہے: عطا اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت جلد ہی وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی جانب سے سرکاری اشتہارات کی ریٹس میں اضافے کے وعدے پر عملدرآمد کرے گی کیونکہ حکومت کا ماننا ہے کہ جعلی میڈیا پلیٹ فارمز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک متحرک اور فعال پرنٹ میڈیا کا فروغ اور ترقی ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات وزارتِ اطلاعات آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (APNS) کے ایگزیکٹو اراکین کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اخباری صنعت کو درپیش ادائیگیوں کے مسائل حل کیے جا رہے ہیں اور حکومت اب تک میڈیا کو ان کے واجبات کی مد میں چھ ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کر چکی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پرنٹ میڈیا کا حصہ ادائیگیوں اور اشتہارات کی مقدار دونوں میں بڑھایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لا رہی ہے تاکہ تمام واجبات کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے اور کوئی واجب الادا رقم باقی نہ رہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو جعلی اخبارات کی چھان بین کرے گی جس کا مقصد اصلی اشاعتوں کی مالی حالت کو بہتر بنانا ہے۔ وزیر اطلاعات نے اخبارات کو موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خود کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا مشورہ دیا۔
’انتہائی دردناک لمحہ تھا‘، مومنہ اقبال کا جنس سے متعلق جعلی ویڈیو پر ردعمل
وزیر اطلاعات کو اس سے قبل APNS کے صدر سینیٹر سرمد علی اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین نے اخباری صنعت کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ اراکین نے بتایا کہ وزیر اعظم نے اگست 2023 میں سرکاری اشتہارات کی شرح میں اضافے کا اعلان کیا تھا لیکن متعدد یقین دہانیوں کے باوجود یہ فیصلہ تاحال نافذ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پرنٹ میڈیا شدید مالی بحران کا شکار ہے کیونکہ جاری کردہ ادائیگیوں کا بڑا حصہ الیکٹرانک میڈیا کو دیا گیا جبکہ اخبارات کو جاری کردہ رقم اس کل رقم کا 20 فیصد سے بھی کم ہے۔ اراکین نے پرنٹ میڈیا کے لیے اشتہارات کی تقسیم میں منصفانہ حصہ مختص کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس مطالبے کو بھی دہرایا کہ علاقائی PID دفاتر کو اپنے اپنے علاقوں کے میڈیا تجویز کرنے کا اختیار دیا جائے۔
لیاری واقعہ کے بعد کراچی میں مزید 125 عمارتیں خطرناک قرار
عشائیے میں سیکرٹری اطلاعات امبرین جان، پبلک انفارمیشن آفیسر (PIO) جناب مبشر حسن اور وزارت کے دیگر حکام نے شرکت کی۔ اے پی این ایس کی نمائندگی محمد اطہر قاضی، سیکرٹری جنرل، نوید کاشف، فنانس سیکرٹری اور ایگزیکٹو کمیٹی کے دیگر اراکین نے کی۔آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (APNS) کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 9 جولائی کو اسلام آباد میں صدر سینیٹر سرمد علی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ سیکرٹری جنرل جناب محمد اطہر قاضی نے اجلاس کے فیصلوں کا اعلان کیا اور کہا کہ اراکین نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ اخباری صنعت کو درپیش مالی بحران سے نکالنے کے لیے طویل عرصے سے زیر التوا بلوں کی ادائیگی جلد از جلد کی جائے۔ اراکین نے سابقہ ادوار سے متعلق ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پبلک ریلیشنز (DGPR) کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اراکین نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ اے پی این ایس کے صدر کی سربراہی میں ایک وفد سیکریٹری اطلاعات سندھ سے ملاقات کرے گا تاکہ غیر بجٹ شدہ ادائیگیوں کی طویل التواء کا معاملہ اٹھایا جا سکے۔ایگزیکٹو کمیٹی نے ایڈورٹائزنگ کمیٹی کی رپورٹ کی منظوری دی اور ایم/ایس برانڈ اسپیکٹرم (پرائیویٹ) لمیٹڈ لاہور کو عارضی طور پر منظوری دے دی۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے ٹیکس نظام بارے رپورٹ جاری کردی
اجلاس میں سینیٹر سرمد علی (صدر)، محمد اطہر قاضی (سیکرٹری جنرل)، نوید کاشف (فنانس سیکریٹری)، محسن بلال (جوائنٹ سیکرٹری)، محسن سیال (روزنامہ آفتاب)، بلال فاروقی (آغاز)، انصار محمود بھٹی (ماہنامہ سینٹر لائن)، فوزیہ شاہین (ماہنامہ دستک)، نجم الدین شیخ (روزنامہ دیانت)، جاوید مہر شمسی (روزنامہ کلیم)، امتحان شاہد (روزنامہ خبریں)، بلال محمود (نوائے وقت)، رساخ منیر (روزنامہ مشرق پشاور)، عامر ملک (روزنامہ مشرق کوئٹہ)، ایس ایم منیر جیلانی (روزنامہ پیغام)، عثمان مجیب شامی (روزنامہ پاکستان)، فیصل زاہد ملک (روزنامہ پاکستان آبزرور)، خوشنود علی خان (روزنامہ صحافت)، ہمایوں گلزار (روزنامہ سیادت)، عمران اطہر (روزنامہ تجارت) اور نےسید ہارون شاہ (روزنامہ وحدت)شرکت کی۔
بلاول بھٹو زرداری کا بھارتی صحافی کرن تھاپر کے ساتھ انٹرویو آج نشر ہوگا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ایگزیکٹو کمیٹی وزیر اطلاعات اشتہارات کی پرنٹ میڈیا اراکین نے انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔