اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔08 جولائی ۔2025 )توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے تحت حکومت نے ایک 10 سالہ منصوبہ متعارف کرایا ہے جس کے تحت ملک بھر میں 2 ارب روپے کی لاگت سے پرانے اور غیر موثر پنکھوں کو مرحلہ وار توانائی بچانے والے پنکھوں سے تبدیل کیا جائے گا نجی ٹی وی کے مطابق حکومت نے توانائی کی بچت کو فروغ دینے کے لیے ایک 10 سالہ سبسڈی پر مبنی پنکھا تبدیلی پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ملک بھر کے تمام بجلی کے تقسیم کار اداروں بشمول کے-الیکٹرک میں نافذ کیا جائے گا.

(جاری ہے)

یہ اسکیم آن بل اسلامک فنانسنگ ماڈل کے تحت 2 ارب روپے کے فنڈ سے چلائی جائے گی جس کے تحت ملک بھر میں نصب 14 کروڑ 70 لاکھ پنکھوں میں سے 8 کروڑ 80 لاکھ پرانے اور غیر موثر پنکھے مرحلہ وار تبدیل کیے جائیں گے اس اقدام سے 6 ہزار سے 7 ہزار میگاواٹ تک کی توانائی کی بچت متوقع ہے یہ منصوبہ رواں ماہ وزیراعظم کی جانب سے باقاعدہ طور پر متعارف کرائے جانے کا امکان ہے.

ذرائع کے مطابق قرضے کراچی انٹربینک آفرڈ ریٹ (کے آئی بی او آر) 2 فیصد شرح پر دیے جائیں گے جب کہ حکومت 10 فیصد فرسٹ لاس گارنٹی فراہم کرے گی یہ تفصیلات ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران سامنے آئیں جس کی صدارت وزیر خزانہ اورنگزیب رمدے نے کی. اجلاس میں وزیر توانائی، اسٹیٹ بینک کے گورنر، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے اجلاس میں وزیراعظم پنکھا تبدیلی پروگرام میں ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (این ای ای سی اے) کی جانب سے شرکا کو مختلف بینکوں کے ساتھ معاہدوں، نظام میں انضمام اور پنجاب ٹیکنالوجی انویسٹمنٹ بورڈ اور پاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (پی آئی ٹی سی) کے تکنیکی کردار کے بارے میں آگاہ کیا گیا.

اس اسکیم کے تحت بینکوں کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ بجلی کے بلوں کے ذریعے قسطیں براہ راست منہا کر سکیں کے-الیکٹرک اور دیگر ڈسکوز (بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں) اس ماڈل پر عمل درآمد کریں گی، جب کہ نادرا، 1-لنک اور دیگر بینک آن لائن ادائیگی کے عمل کو سہولت فراہم کریں گے پی آئی ٹی سی بجلی کے صارفین کا ڈیٹا براہ راست اے پی آئی کے ذریعے پنجاب آئی ٹی بورڈ کو فراہم کرے گی تاکہ اہل صارفین کو اس پروگرام میں شامل کیا جا سکے منصوبے کے تحت ملک بھر میں غیر موثر پنکھوں، خصوصاً چھوٹے گھروں میں استعمال ہونے والے پنکھوں کو ہدف بنایا گیا ہے.

اس سے موسم گرما میں بڑھنے والے 11 ہزار میگاواٹ کولنگ لوڈ کو کم کرنے میں مدد ملے گی حکومت کو توقع ہے کہ اس سے کیپیسٹی پے منٹس میں بھی کمی آئے گی اور مارکیٹ میں اعلیٰ کارکردگی والے برقی آلات کی حوصلہ افزائی ہوگی اس وقت ملک میں بجلی کے 2 کروڑ 20 لاکھ رجسٹرڈ صارفین موجود ہیں جنہیں 6 سے 18 ماہ کی آسان اقساط میں ادائیگی کی سہولت دی جائے گی فی پنکھا اوسط تبدیلی لاگت تقریباً 10 ہزار 500 روپے رکھی گئی ہے این ای ای سی اے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی مشترکہ طور پر اس منصوبے کے کاربن فنانسنگ کلیمز کی نگرانی کریں گے.

وزیر خزانہ اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم اس منصوبے میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں اور اسے توانائی کی بچت، مالی شمولیت اور معاشی استحکام کا اہم ذریعہ قرار دے رہے ہیں انہوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ پروگرام نہ صرف صارفین کے رویے میں مثبت تبدیلی لائے گا بلکہ توانائی کی طلب میں کمی اور معیشت میں وسیع فوائد بھی فراہم کرے گا. انہوں نے تمام شراکت داروں، خاص طور پر بینکنگ سیکٹر کی شمولیت کو سراہا اور ہدایت دی کہ دو سے تین ہفتوں میں تمام تیاریوں کو مکمل کر لیا جائے تاکہ منصوبے کا پہلا مرحلہ شروع کیا جا سکے اجلاس کے اختتام پر تمام اسٹیک ہولڈرز نے اس پروگرام کے بر وقت اور موثر آغاز کے لیے اپنی بھرپور وابستگی کا اعادہ کیا جو حکومت کی وسیع تر توانائی اور اقتصادی اصلاحات کی حکمت عملی کا حصہ ہے. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے توانائی کی بجلی کے ملک بھر کے تحت

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ