سنسنی پھیلانے والے بھگوڑے یوٹیوبرز کے چینل بند کرکے کرمنل کارروائی بھی کی جائیگی، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
سنسنی پھیلانے والے بھگوڑے یوٹیوبرز کے چینل بند کرکے کرمنل کارروائی بھی کی جائیگی، طلال چوہدری WhatsAppFacebookTwitter 0 9 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ جن 27 یو ٹیوب چینلز کو بند کیا جا رہا ہے، ان میں سے زیادہ تر بھگوڑے ہیں، پیسے کمانے اور ریٹنگ بڑھانے کے لیے سنسنی پھیلانے والے یو ٹیوبرز کے خلاف کرمنل کارروائی بھی کی جائے گی۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان بار بار این آر او مانگ رہے ہیں، کبھی امریکا سے بندے لے آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے اسرائیلی سسرالی تکلیف میں ہیں کہ وہ کیوں سزا بھگت رہے ہیں، عمران خان کے بچے ضرور آئیں تاکہ انہیں پتا چلے کہ ان کے والد نے کیا کھلواڑ کیا۔ طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان کے بچے آئیں گے نہیں، اس بندے کو بچانے کے لئے لابی کام کر رہی ہے، اس لابی کا یہ بچہ ہے، داماد بنایا ہوا ہے۔
عدالت کی جانب سے 27 یوٹیوب چینلز بند کرنے کے حکم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک قانون ہے، اس کی پاسداری کرنی ہوگی۔وزیر مملکت نے کہا کہ پوری دنیا میں سائبر سے متعلق قوانین ہیں، آپ یہ نہیں کر سکتے کہ ہاتھ میں موبائل اٹھا کر فتوے دیں، آپ انتشار کے لیے سوشل میڈیا استعمال نہیں کر سکتے، قوانین کے تحت یہ سب کچھ چل سکتا ہے۔ایک سوال پر کہ چینلز بندش کے حکم کی زد میں آنے والوں میں سے بیشتر کو تو سنا ہی نہیں گیا، وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بلا کر ہماری بات تو سن لیتے۔
طلال چوہدری نے جواب دیا کہ یہ زیادہ تر بھگوڑے ہیں، یہ سوشل میڈیا سے پیسے کمانے کے لیے سنسنی پھیلاتے ہیں، سنسنی پھیلا کر ریٹنگ بڑھاتے ہیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ جو لوگ صحافتی آداب کے مطابق بات کرتے ہیں، ان کے ویلاگ کو اتنی ریٹنگز اور فالوورز نہیں ملتے، پیسے انہیں ملتے ہیں، ان چینلز اور ویب سائٹ سے اور افرا تفری یہاں پر پھیلاتے ہیں۔طلال چوہدری نے کہا کہ یہ نہیں ہوگا اور ان پر ابھی کرمنل کارروائی بھی ہوگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت اور پاکستان کی نئی نسل اپنی قسمت خود لکھ سکتی ہے، بلاول بھٹو بھارت اور پاکستان کی نئی نسل اپنی قسمت خود لکھ سکتی ہے، بلاول بھٹو آپریشن سندور کی ناکامی، بھارتی عسکری قیادت چین کے کردار پر تقسیم کا شکار اسلام آباد ہائیکورٹ ججز منتقلی و سینیارٹی کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس، ن لیگ اور پیپلز پارٹی رہنماوں کی ایک دوسرے کو دھمکیاں، نبیل گبول کا واک آوٹ، حکومت گرانے کا... پاکستان اور ترکیہ کا علاقائی استحکام کے لئے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق وفاقی حکومت کا چینی کی درآمد ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے کرنے کا فیصلہ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کرمنل کارروائی بھی طلال چوہدری نے نے کہا کہ
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔