قائمہ کمیٹی اجلاس میں گرما گرمی: نبیل گبول کا طلال چوہدری کو ’خیرات میں ملی اکثریت‘ کا طعنہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ارکان کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔
اجلاس کے دوران شازیہ مری نے سی ڈی اے ترمیمی بل پیش کرنے میں مبینہ رکاوٹ پر برہمی کا اظہار کیا اور چیئرمین سی ڈی اے کے خلاف تحریکِ استحقاق لانے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پی ٹی اے نے ایمل ولی سے چرس بھرا سیگریٹ مانگ لیا، اجلاس میں جھڑپ
اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے چیئرمین سی ڈی اے کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ شازیہ مری تحریکِ استحقاق لے آئیں، وہ اس کا سامنا کریں گے۔
اس پر شازیہ مری نے کہاکہ طلال چوہدری دھمکی دے رہے ہیں، جس پر وزیر مملکت نے جواب دیا کہ دھمکی شازیہ مری دے رہی ہیں۔
بعد ازاں پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول وزیر مملکت کے رویے پر احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کرگئے۔
نبیل گبول نے کہاکہ حکومت کو خیرات میں جو دو تہائی اکثریت ملی ہے، اس سے طلال چوہدری مغرور ہوگئے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے پہلے بھی حکومت گرا کر دکھائی تھی، اب بھی یہ کام کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قائمہ کمیٹی: چیئرمین حفیظ الدین سی ای او کے الیکٹرک پر برہم، اجلاس سے نکال دیا
واک آؤٹ کے دوران چیئرمین کمیٹی نبیل گبول کو روکنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن اس کے باوجود وہ اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews خیرات دوتہائی اکثریت شازیہ مری طلال چوہدری قائمہ کمیٹی اجلاس گرمی گرمی نبیل گبول وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیرات دوتہائی اکثریت شازیہ مری طلال چوہدری قائمہ کمیٹی اجلاس نبیل گبول وی نیوز طلال چوہدری قائمہ کمیٹی شازیہ مری نبیل گبول
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،