انتقامی سیاست کو دفن کئے بغیر آگے نہیں بڑھاجاسکتا،جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (وقائع نگارخصوصی) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا کہ سیاسی چپقلش اور انتقامی سیاست کو دفن کئے بغیر ملک و قوم کو آگے لے کر نہیں چلا جا سکتا، اس کا خمیازہ قوم نے بھگت لیا ہے۔ ہمارے ہمسایہ ممالک ترقی و خوشحالی میں آگے نکل چکے ہیں، پاکستان جنوبی ایشیا کا سب سے مہنگا ترین ملک بن چکا ہے۔ادارے تباہ اور کرپشن نے نظام کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک کی ترقی اور قوم کی خوشحالی میں سب ملک کر اپنا مثبت کر دار ادا کریں۔ کوئی بھی چیز پاکستان کی سلامتی سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی۔باہمی اختلافات کو ختم کرنا وقت کا تقاضا ہے۔دشمن قوتین حملہ آور ہیں، بھارت اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے بلوچستان اور خبیرپختونخوا میں دہشت گردی کی وارداتیں کروا رہا ہے۔قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے داخلی انتشار، با ہمی اختلافات اور بد اعتمادی کی فضا کو ختم کرنا ا ز حد ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ منافع بخش ادارے حکمرانوں کی مسلسل لوٹ مار کے باعث خسارے کا شکار ہو کر قومی خزانے پر سفید ہاتھی بن چکے ہیں۔نا اہلوں کا ایک ٹولہ ہے جس کے پاس وڑن ہے اور نہ ہی اداروں کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کی صلاحیت ہے۔ کرپشن نے ملکی معیشت کو مفلوج کر کے رکھ دیا، سودی نظام سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہوگا۔ محمدجاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ مفادات کی سیاست نے ملک و قوم کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ظلم و ستم اور کرپٹ نظام نے عوام سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے، جاگیر داروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کے ساتھ مافیا ز نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ملک و قوم کو انتشار، سیاسی عدم استحکام اورانارکی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفادات کو ترجیح دیں اور پاکستان کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔