فہد مصطفیٰ کی بچپن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل، صارفین کے دلچسپ تبصرے
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
پاکستان شوبز کے مشہور اداکار اور میزبان فہد مصطفیٰ کی بچپن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں فہد مصطفیٰ کو ایک سندھی ڈرامے میں کردار ادا کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ کیونکہ سندھی فہد کی مادری زبان ہے اس لئے وہ با آسانی محض 7 سے 8 برس کی عمر میں سندھی زبان میں بنے ڈرامے میں اداکاری کے جوہر دکھا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین اس ویڈیو پر فہد مصطفیٰ کی حالیہ رنگ و روپ کا موازنہ کر رہے ہیں کیونکہ بچپن کی اس ویڈیو میں فہد کا رنگت کافی گہری ہے جبکہ اب وہ بےحد گورے ہوچکے ہیں۔
صارفین کا کہنا ہے کہ فہد مصطفیٰ نے بےشمار بیوٹی ٹریٹمنٹس کروا رکھے ہیں تاہم فہد خود بھی براہ راست اپنے مشہور شو میں اس بات کا کئی مرتبہ اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے اپنی اسکرین لُک بہتر بنانے اور جلد کو گورا کرنے کیلئے کئی مرتبہ گلوٹاتھایون کے انجیکشن لگوائے ہیں۔
گلوٹاتھایون جلد کی رنگت کو نکھارنے، مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے اور جسم سے زہریلے مادوں کو نکالنے میں مدد کرتا ہے تاہم کئی لوگ اس انجیکشن کو لگوانا مضر صحت بھی سمجھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا فہد مصطفی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔