UrduPoint:
2026-06-02@22:36:00 GMT

ایران کی یورپی ممالک کو ’تخریبی اپروچ‘ کے خلاف تنبیہ

اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT

ایران کی یورپی ممالک کو ’تخریبی اپروچ‘ کے خلاف تنبیہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جولائی 2025ء) ٹیلی گرام پر ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالس کے ساتھ منگل کو ایک فون کال میں اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ فضائی حملوں کے بارے میں بعض یورپی ممالک کے موقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ ممالک اسرائیل اور امریکہ کے حمایتی ہیں۔

عراقچی نے تاہم یہ نہیں بتایا کہ ان کے ذہن میں کون سے ممالک ہیں۔

ایران-اسرائیل تنازعہ: مذاکرات بحال ہونا چاہییں، یورپی یونین

کاجا کالس نے فون کال کے بعد کہا کہ ’’ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے بارے میں بات چیت جلد از جلد دوبارہ شروع ہونی چاہیے۔

(جاری ہے)

‘‘

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کار نے کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون ’’دوبارہ شروع ہونا چاہیے‘‘ اور یہ کہ بلاک سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

مشرق وسطیٰ: کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کریں گے، جرمن وزیر خارجہ

کاجا کالس نے مزید کہا کہ ’’جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے نکلنے کی دھمکیاں تناؤ کو کم کرنے میں مدد گار نہیں ہیں۔‘‘

جوہری معاہدے کے لیے یورپی یونین کی کوششیں

دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ فون کال ایسے وقت ہوئی ہے جب عراقچی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی جلد بحالی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو پہلے اس یقین دہانی کی ضرورت ہوگی کہ اس پر دوبارہ حملہ نہیں کیا جائے گا۔

امریکہ اور ایران جوہری مذاکرات کر رہے تھے جب اسرائیل نے ایرانی جوہری مقامات اور فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ امریکہ نے 21 جون کو تین جوہری مقامات - فردو، نظنز اور اصفہان پر بمباری کرکے اس حملے میں خود بھی شامل ہو گیا۔

پوٹن کی ایران، امریکہ جوہری مذاکرات میں ثالثی کی پیشکش

یورپی یونین طویل عرصے سے ایران کے ساتھ ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ستائیس ملکی بلاک تہران کے جوہری پروگرام پر ایران اور بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان 2015 کے معاہدے پر دستخط کرنے والا اور سہولت کار تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں اس معاہدے کو یک طرفہ طور پر ترک کر دیا تھا۔

جی 7 کا مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر زور

گروپ آف سیون ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی حمایت کرتے ہیں اور ایران کے جوہری پروگرام سے نمٹنے کے لیے ایک معاہدے کے لیے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا۔

ایرانی امریکی جوہری مذاکرات کن نکات پر اختلافات کا شکار؟

جی سیون وزرائے خارجہ نے کہا کہ ’’ہم مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایک جامع، قابل تصدیق اور پائیدار معاہدہ ہو گا جو ایران کے جوہری پروگرام کو حل کرے گا۔‘‘

جی سیون وزرائے خارجہ نے کہا کہ انہوں نے ’’تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے کو مزید غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔‘‘

امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت ’’امید افزا‘‘ تھی اور واشنگٹن طویل مدتی امن معاہدے کے لیے پر امید ہے۔

ادارت: صلاح الدین زین

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے جوہری پروگرام یورپی یونین اور ایران کے درمیان ایران کے کے ساتھ نے کہا کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار