تجویز میںحکومت سے مذاکرات کو پیٹرن انچیف تحریک انصاف سے ملاقات پر مشروط کر دیا
کھلا خط شاہ محمود قریشی اور محمود الرشید، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ نے لکھا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسیر رہنماؤں نے پارٹی لیڈر شپ کو حکومت سے مذاکرات کرنے کی تجویز دے دی جبکہ حکومت سے مذاکرات کو بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات پر مشروط کر دیا۔تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے اسیر رہنماؤں کی جانب سے پارٹی لیڈر شپ کو کھلا خط لکھا گیا ہے، کھلے خط میں انہوں نے حکومت سے مذاکرات کرنے کی تجویز دے دی جبکہ تجویز میں حکومت سے مذاکرات کو بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات پر مشروط کرنے کا کہا گیا ہے۔خط پارٹی کے سینئر نائب صدر شاہ محمود قریشی، سابق وزرا میاں محمود الرشید، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ نے لکھا۔خط میں کہا گیا کہ ملکی تاریخ کے بد ترین بحران سے نکلنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں، مذاکرات ہر سطح پر ہونے ضروری ہیں، سیاسی سطح پر بھی مذاکرات ضروری ہیں اور مقدرہ کی سطح پر بھی مذاکرات ضروری ہیں۔خط میں کہا گیا کہ مذاکرات کا آغاز سیاسی سطح پر کیا جائے، تحریک انصاف کے لاہور کے اسیر رہنماؤں کو اس کا حصہ بنایا جائے۔خط میں مزید کہا گیا کہ مذاکراتی کمیٹی کی تقرری کے لیے عمران خان تک رسائی ممکن بنائی جائے تاکہ لیڈرشپ وسیع مشاورت کر سکے اور ملاقات کے اس عمل کو وقتا فوقتا جاری رکھنا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: حکومت سے مذاکرات اسیر رہنماو ں پی ٹی ا ئی کہا گیا

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان